دل کو لذت آشنا کرتا ہے تُو

عاصیوں کو باصفا کرتا ہے تو تیری رحمت کی کوئی حد ہی نہیں نعمتیں سب کو عطا کرتا ہے تُو دوستوں سے ہوگا تیرا کیا سلوک دشمنوں کا جب بھلا کرتا ہے تُو نفسِ امارہ کو کر دے مطمئن بادِ صرصر کو صبا کرتا ہے تُو ایک بچے کے لیے ماں باپ کو پرورش کا […]

میرے درد و غم کی دوا ہو رہی ہے

محمد کی محفل عطا ہو رہی ہے شہنشاہِ ارض و سما آ رہے ہیں خدا کی خدائی فدا ہو رہی ہے انہیں مشکلوں میں بنا کر وسیلہ بلاوں سے خلقت رِہا ہو رہی ہے وہ در چوم کے شاید آئی ہے عارف معطر جو بادِ صبا ہو رہی ہے

دل و نظر میں لیے عشقِ مصطفیٰ آؤ

خیال و فکر کی حدّوں سے ماورا آؤ درِ رسول سے آتی ہے مجھ کو یہ آواز یہاں ملے گی تمہیں دولتِ بقا آؤ جلائے رہتی ہے عصیاں کی آگ محشر میں بس اب نہ دیر کرو شافعِ الورا آؤ برنگِ نغمہِ بلبل سنا کے نعتِ نبی ذرا چمن میں شگوفوں کا منہ دھلا آؤ […]

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے تیری راہ میں اکھیاں بچھاتے بچھاتے تیری حسرتوں میں تیری چاہتوں میں بڑے دن ہوئے گھر سجاتے سجاتے قیامت کا منظر بڑا پر خطر ہے مگرمصطفی کا جو دیوانہ ہوگا وہ پل پے گزرے گا مسرور ہو کے نعرہ نبی کا لگاتے لگاتے میرا یہ ہے ایماں یہ […]

اس قدر تیر کمیں گاہِ جنوں سے نکلے

ہم بھی تھک ہار کے اب شہرِ فسوں سے نکلے وہ بھی گویا کہ دھواں بن کے فضآء میں بکھرا ہم بھی شعلے کی طرح اپنی حدوں سے نکلے چوٹ پڑتی رہی نقارے پہ اک عمر تلک صرف ہم تھے کہ جو درانہ صفوں سے نکلے ایک پتھر کی طرح گرتے ہوئے یاد آیا جوشِ […]

جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے

کہ چاکِ زخمِ جگر کو سیا سیا ، نہ سیا جو کاٹتے تھے مسافت ، مسافتوں میں کٹے سفر کا کیا ہے کسی نے کیا کیا ، نہ کیا فریب عشق ، ترا رقص ہی قیامت ہے فریب حسن کسی نے دیا دیا ، نہ دیا ہر ایک تہمتِ وحشت ، ہمی سے وابستہ ہمارا […]

نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں

بات یوں بھی نہیں تھی کہنے کی حاتمِ عشق کی حویلی بھی ، اب کہاں رہ گئی ہے رہنے کی ڈوبنا کون چاہتا ہے مگر؟ اور ہمت نہیں ہے بہنے کی اب بھرم ٹوٹتا ہے ، تو ٹوٹے بے دلی اب نہیں ہے سہنے کی اور پھر ، تیرگی میں ڈوب گئی جھلملاہٹ ، تمہارے […]

ہر عاشق رسول یہ نعرہ لگائے گا

بعد از نبی کوئی نبی آیا نہ آئیگا ان منکران ختم نبوت کے مکر سے اب ہر مسلماں جاگ کے سب کو جگائیگا اللہ کے دیں کا غم لئے پھرتا رہیگا جو دست نبی سے جام وہ کوثر کا پائیگا جو مسلمہ کذاب کے سانچے میں ڈھل گئے واللہ کذب کا قافلہ جنت نہ جائیگا […]

تخلیقِ نورِ محمدی

كُنْتُ كَنْزًا حسن کا شوقِ شہود تھی پسِ پردہ تمنائے نمود کنت کنزاً صوفیاء اکرام کے ہاں روایت کردہ ایک حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ ایک چھپا ہوا خزانہ تھا اور اس نے چاہا کہ اسے جانا جائے جاودانی حسن کا اظہار ہو دید کی خاطر نگاہِ یار […]