سبھی سرگوشیاں جب ھار کے دم توڑ دیتی ھیں

کوئی نغمہ مُسلسل گونجتا ھے دھیان میں پھر بھی بنفشے کے سبھی پھولوں کو لے جاتی ھے جب پت جھڑ کوئی خوشبو جواں رھتی ھے دل دالان میں پھر بھی گلابوں کی جواں مَرگی پہ کچھ عرصہ فُغاں کرکے بکھرتی پتّیاں سجتی ھیں پیاری خواب گاھوں میں سو ایسے ھی تری یادیں ھیں میرے ساتھ […]

اک آدھ روٹی کے واسطے کیسے کیسے چکر چلا رھا ھُوں

مِرے خُدا ! تُو تو جانتا ھے مَیں جس طرح گھر چلا رھا ھُوں تُمہارے پیروں سے جو چُھوئے تھے وہ مَیں نے جیبوں میں بھر لیے تھے طلائی سِکّوں کی جگہ مَیں آج بھی وہ کنکر چلا رھا ھُوں تُمہی بتاؤ، تمہارے دل پر چلے بھی کیسے مِری محبت ؟ یہ گہرے پانی کی […]

تُو حاکم ھے تو اِن آفات پر رو کیا رھا ھے ؟

ھمیں بتلا ھمارے دیس میں ھو کیا رھا ھے ؟ ترے ھاتھوں پہ ھیں کم سِن لہُو کے سُرخ دھبّے ارے ! یہ داغ مِٹنے کے نہیں، دھو کیا رھا ھے ؟ اور اب فصلِ اذیّت کاٹنے میں شور کیسا ؟ اگر بوتے ھوئے سوچا نہیں بو کیا رھا ھے گُلابی عصمتوں کو نوچ کر […]

ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی

آپ آئے تو سب کو ملی روشنی بزمِ عالم سے رخصت ہوئی ظلمتیں جب حرا سے ہویدا ہوئی روشنی چاند سورج کا انساں پرستار تھا آپ سے قبل اندھیرا تھی روشنی سوئے عرشِ علٰی مصطفیٰ کا سفر روشنی کا طلبگار تھی روشنی ہے وہ خورشیدِ اطلاق خیر البشر جس سے پاتا ہے ہر آدمی روشنی […]

نُورِ سرکار‏ نے ظلمت کا بھرم توڑ دیا

کفر کافور ہوا شِرک نے دَم توڑ دیا سوزِ غم ختم کیا سازِ سِتم توڑ دیا آپ نے سلسلہء رنج والم توڑ دیا نعرہ زن رِند بڑھے ساقیِ محشر کی طرف جامِ کوثر جو مِلا ساغرِ جم توڑ دیا دستِ قدرت! ترے اِس حسنِ نگارش پہ نثار نام وہ لوح پر لکّھا کہ قلم توڑ […]

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

سورج کے اجالوں سے، فضاؤں سے ، خلا سے چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے پرہول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے، غذا سے برسات سے، طوفان سے، پانی سے، […]

جب بھی آنکھوں نے مری گنبدِ خضرا دیکھا

نور میں ڈوبا ہوا اپنا سراپا دیکھا معجزہ یہ بھی شہ دیں کا ہے بیشک ورنہ سوکھے تھن سے بھی کبھی دودھ نکلتا دیکھا؟ یہ مدینہ ہے مقام اس کا خدا ہی جانے تاج والوں کو بھی اس خاک پہ جھکتا دیکھا آپ کے حکم پہ انسان کیا کنکریوں کو مشتِ بوجہل میں پڑھتے ہوئے […]