لب پر نعت پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے اور کسی جانب کیوں جائیں اور کسی کو کیوں دیکھیں اپنا سب کچھ گنبد خضریٰ کل بھی تھا اور آج بھی ہے پست وہ کیسے ہو سکتا ہے جس کو حق نے بلند کیا دونوں جہاں میں اُن کا چرچہ کل بھی تھا […]

ہوں میں جب مستغرقِ کارِ ثنائے آنحضور

روشنی ہی روشنی ہے در شعور و لا شعور مرتکز سارا جمال و حسن در ذاتِ حضور روئے تاباں پر ہے اس کے نور اِک بالائے نور اس کی نسبت کیا کہیں ہم بندگانِ بے شعور کیا نہیں وہ اور کیا ہے جانے یہ ربِّ غفور گر چہ ہیں صد ہا نِعَم جنّت میں مع […]

رہے گا غلغلہ تیرا جہاں میں، ہم نہیں ہوں گے

تو محبوبِ خدا ہے تیرے چرچے کم نہیں ہوں گے سہارا ایک بس رہ جائے گا شاہِ مدینہ کا جو ہمدم ہیں دریں عالم، در آں عالم نہیں ہوں گے شفیعِ عاصیاں ہے نورِ چشمِ آمنہ بے شک مسیحِ دہر نورِ دیدۂ مریم نہیں ہوں گے نہ جائیں جو مدینہ باوجودِ استطاعت بھی دل و […]

بساطِ ارض ہے تم سے یہ آسماں تم سے

ضیائے شمس و قمر، نورِ کہکشاں تم سے خدا کی حمد میں رطب اللسانیاں تم سے یہ پنجگانہ و تسبیح، یہ اذاں تم سے گرہ کشائی اسرارِ دو جہاں تم سے کہاں ملیں گے زمانے کو راز داں تم سے فروغِ لالہ و گل، رنگِ گلستاں تم سے ہے بلبلوں کی محبت کی داستاں تم […]

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا

زخم دل کو کبھی اچھا نہیں ہونے دینا میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گا اتنی جلدی اسے پسپا نہیں ہونے دینا تو نے میرا نہیں ہونا ہے تو پھر یاد رہے میں نے تجھ کو بھی کسی کا نہیں ہونے دینا تو نے کتنوں کو نچایا ہے اشاروں پہ مگر میں […]

شہرِ بےرنگ میں کب تُجھ سا نرالا کوئی ھے

تجھ کو دیکھوں تو لگے عالمِ بالا کوئی ھے کبھی گُل ھے، کبھی خوشبو، کبھی سُورج، کبھی چاند حُسنِ جاناں ! ترا اپنا بھی حوالہ کوئی ھے ؟ ھاتھ رکھ دل پہ مِرے اور قسم کھا کے بتا کیا مِری طرح تُجھے چاھنے والا کوئی ھے ؟

زمیں کا رزق ہوا روشنائی کا قطرہ

قلم کی نوک سے اک داستان ٹپکی تھی پھر اس کے بعد رکابوں میں رہ گئے پاوں جنوں کی پشت کو تیرا فراق، تھپکی تھی پگھل سکا نہ مرا منجمد ہراس، بھلے ترے وجود کی لو بار بار لپکی تھی بدل گئے ہیں افق پار تک سبھی منظر گماں نے آنکھ فقط ایک بار جھپکی […]

یاقوت لب کو آنکھ کو تارہ نہ کہہ سکیں

ایسا نہ ہو کہ شعر دوبارہ نہ کہہ سکیں وہ چھب کہ نقرئی کبھی زریں دکھائی دے شعلہ نہ کہہ سکیں جسے پارہ نہ کہہ سکیں سولی کے آسرے پہ ٹکی ہے شکستگی خوش فہمیاں بھی تم کو سہارہ نہ کہہ سکیں ہم کشتگان موج بلا جاں بلب سہی ان دلدلوں کو ہم بھی کنارہ […]

تُو میرے رُوکھے پن پر تلملا نئیں

مَیں جتنا بے مروّت اب ھُوں، تھا نئیں خوشی بےحد سُہانی کیفیت ھے مگر غم سے زیادہ دیرپا نئیں مِرے اشکوں کو مت بہلائیں، جائیں یہ میرا مسئلہ ھے، آپ کا نئیں تو کیا تیرا نہیں ھے تیرا مُنکر ؟ تو کیا تُو اپنے مُنکر کا خُدا نئیں ؟ چلو مانا نہیں جَون ایلیا مَیں […]

الفاظ ڈُھونڈتا ہے مِرے حسب حال کیا؟

دے گا مِرے سوا کوئی میری مثال کیا؟ جاتا عروج ، کیا مرا ، لے کر اجازتیں؟ آتا ہے پوچھ کر بھی کسی کو زوال کیا؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ حیرت ہے آج بھی اک مستقل ملال کا ورنہ ملال کیا؟ بوسیدگی سے خاک ہوئی جب کہ آرزو کیا سہل رہ گیا ہے […]