یکسر مبالغہ بھی سخن ساز کا نہ تھا
ہمسر کوئی بھی سُر تری آواز کا نہ تھا سو تجربوں کی کوکھ سے پھوٹی ہے بزدلی یہ خوف مرحلہ کوئی آغاز کا نہ تھا وہ آسماں قبول نہیں تھا جنون کو درپیش مسئلہ مجھے پرواز کا نہ تھا مجھ کو شکوک تھے مرے اپنے نصیب پر منکر وگرنہ میں ترے اعجاز کا نہ تھا […]