نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا، ثنا نبی کی جو لکھے کامل

ہے نعت گوئی میں میری نیت، رضائے خالق ہو مجھ کو حاصل کمال و خوبی ہر ایک لے کے خمیرِ فطرت میں کر کے داخل خدا نے پیدا کیا وہ ہادی کہ جس پہ کرنا تھا دین کامل بھٹک چکا تھا جو دینِ حق سے، بچھڑ چکا تھا جو اپنے رب سے شہِ ہدیٰ کے […]

بادشاہی ماہ سے ہے تابہ ماہی آپ کی

یہ زمیں ، یہ چاند ، دیتے ہیں گواہی آپ کی آپ ہیں نُورِ ازل ، محبوبِ ربِ کائنات جان و دل ، ارض و سما پر بادشاہی آپ کی غیر ممکن ہے کسی سے آپ کی مدح و ثنا ہے ثنا خواں آپ جب ذاتِ الہیٰ آپ کی کی امامت انبیاء کی آپ نے […]

میری زندگی کا تجھ سے یہ نظام چل رہا ہے

ترا آستاں سلامت مرا کام چل رہا ہے نہیں عرش و فرش پر ہی تری عظمتوں کے چرچے تہ خاک بھی لحد میں ترا نام چل رہا ہے وہ تری عطا کے تیور، وہ ہجوم گرِد کوثر کہیں شورِ مَے کشاں ہے کہیں جام چل رہا ہے کسی وقت یا محمد کی صدا کو میں […]

حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی

نبیؑ تو ہیں ، نہیں محبوب آپ سا کوئی مدد کو پہنچو! کہ راہوں میں کھو گیا کوئی تُمہیں پُکار رہا ہے شکستہ پا کوئی مدینے آ کے نہ ارمان رہ گیا کوئی نہ آرزو ہے ، نہ حسرت ، نہ مدّعا کوئی مثالِ ابرِ بہاراں برس گیا سب پر تمہارے فیض و کرم کی […]

دیکھ اے دل! یہ کہیں مژدہ کوئی لائی نہ ہو

اُس دیارِ پاک سے چل کر صبا آئی نہ ہو راہِ طیبہ میں خیالِ ہوش و دانائی نہ ہو کیا سفر کا لطف جب تک بے خودی چھائی نہ ہو اُن کا جلوہ ہو ، ہمارے قلب کا آئینہ ہو اور کوئی دوسری صورت سے رعنائی نہ ہو دل نے جب حُسنِ عقیدت سے کیا […]

دل میں کسی کو اور بسایا نہ جائے گا

ذکرِ رسولِ پاک بُھلایا نہ جائے گا وہ خود ہی جان لیں گے ، جتایا نہ جائے گا ہم سے تو اپنا حال سُنایا نہ جائے گا ہم کو جزا مِلے گی محمد کے عشق کی دوزخ کے آس پاس بھی لایا نہ جائے گا روشن رہے گا داغِ فراقِ شہِ اُمَم یہ وہ چراغ […]

جُود وعطا میں فرد،وہ شاہِ حجاز ہے

جُود و عطا میں فرد ، وہ شاہِ حجاز ہے سب پر کرم ہے ، اور بِلا امتیاز ہے قلبِ زمیں میں ، شہرِ مدینہ وہ راز ہے انساں تو کیا ، فرشتوں کو بھی جس پہ ناز ہے محمود زندگی ہے اُسی خوش نصیب کی اُن کے کسی غُلام کا جو بھی ایاز ہے […]

تکمیلِ ثنا کر دے یہ انساں میں نہیں دم

ذات ایسی، صفات ایسی تری جانِ دو عالم در زمرۂ خاصانِ خدا سب سے معظم وہ رحمتِ دارین ہے وہ خیرِ مجسم وہ منبعِ ہر علم وہ گنجینۂ حکمت دنیا کا معلِّم ہے وہ ہے رب کا معلَّم کیوں کیف نہ ہو کیوں نہ کرے صبح یہ چم چم وہ عالمِ ظلمات میں آیا تھا […]

منتظر خود ہے بصد شوق، خدا آج کی رات

کس کی آمد ہے سرِ عرشِ عُلٰی آج کی رات فاصلے گھٹ گئے، یُوں قُرب بڑھا آج کی رات عبد و معبود میں پردہ نہ رہا آج کی رات بخشوا لیں گے وہ امت کو خدا سے اپنے مانا جائے گا ضرور اُن کا کہا آج کی رات قابَ قَوسَین کی صورت میں ہوا قرب […]

مصطفٰے شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام

اولیں نقشِ خلقت پہ لاکھوں سلام قائلِ وحدہٗ لاشریک لہٗ ماحی بدعت پہ پہ لاکھوں سلام بھیڑ میں چوم لیں شاہ کی جالیاں اے نظر تیری ہمت پہ لاکھوں سلام کس کی چوکھٹ پہ دے رہا ہے تو صدا اے گدا تیری قسمت پہ لاکھوں سلام ان کی آمد کا سن کر جو ہوگا بپا […]