کیسے اثر کریں گے ستم کے بلا کے ہاتھ

جب مجھ کو چھو چکے ہیں مرے مصطفٰی کے ہاتھ مجھ کو مری طلب سے زیادہ عطا کیا کھینچے کبھی نہ آپ نے لطف و عطا کے ہاتھ قاصد کوئی بھی مجھ کو میسر نہیں حضور پیغام اب کے بھیج رہا ہوں ہوا کے ہاتھ مجھ کو بلائیے درِ اقدس پہ یا نبی بیٹھا ہوں […]

شاہانِ جہاں کس لئے شرمائے ہوئے ہیں

کیا بزم میں طیبہ کے گدا آئے ہوئے ہیں؟ ہنگامۂ محشر میں کہاں حَبس کا خدشہ گیسو شہِ کونین کے لہرائے ہوئے ہیں حاجت نہیں جُنبِش کی یہاں اے لبِ سائل وہ یُوں بھی کرم حال پہ فرمائے ہوئے ہیں یہ شہرِ مدینہ ہے کہ ہے اک کشش آباد محسوس یہ ہوتا ہے کہ گھرآئے […]

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

جو ربِ دوعالم کا محبوب یگانہ ہے کل جس نے ہمیں پُل سے خود پار لگانا ہے زہرہ کا وہ بابا ہے ، سبطین کا نانا ہے اس ہاشمی دولہا پر کونین کو میں واروں جو حسن و شمائل میں یکتائے زمانہ ہے عزت سے نہ مر جائیں کیوں نام محمد پر ہم نے کسی […]

رویا ہوں میں اس شخص کے پیروں سے لپٹ کر

جس نے بھی کوئی بات سنائی تیرے در کی ہیں عرض و سماوات تری ذات کا صدقہ محتاج ہے یہ ساری خدائی ترے در کی انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی ترے در کی تازیست ترے در سے مرا سر نہ اٹھے گا مر جاؤں تو ممکن ہے […]

تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی

قدرت نے اسے راہ دکھائی ترے در کی ہر وقت ہے اب جلوہ نمائی ترے در کی تصویر ہی دل میں اتر آئی ترے در کی ہیں عرض و سماوات تری ذات کا صدقہ محتاج ہے یہ ساری خدائی ترے در کی انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی […]

قدرت نے آج اپنے جلوے دکھا دئیے ہیں

آمد پہ مصطفیٰ کی پردے اٹھا دئیے ہیں یہ کون آ رہا ہے یہ آج کون آیا سوئے ہوئے مقدر کس نے جگا دئیے ہیں جب اُن کا نام لے کر مظلوم کوئی رویا زنجیر توڑ دی ہے قیدی چُھڑا دئیے ہیں بے کس نواز اُن سا پیدا ہوا نہ ہو گا بِچھڑے مِلا دیئے […]

احمد کہُوں کہ حامدِ یکتا کہُوں تجھے

مولٰی کہُوں کہ بندہء مولٰی کہُوں تجھے کہہ کر پُکاروں ساقیِ کوثر بروزِ حشر یا صاحبِ شفاعتِ کبریٰ کہُوں تجھے یا عالمین کے لِیے رحمت کا نام دُوں *یا پھر مکینِ گنبدِ خضریٰ کہُوں تجھے ویراں دِلوں کی کھیتیاں آباد تجھ سے ہیں دریا کہُوں کہ اَبر سَخا کا کہُوں تجھے تجھ پر ہی بابِ […]

ہے جن کی خاکِ پا رُخِ مہ پر لگی ہوئی

اُن کی لگن ہے دل کو برابر لگی ہوئی شاہِ اُمم لُٹائے چلے جا رہے ہیں جام پیاسوں کی بھیڑ ہے سرِ کوثر لگی ہوئی زہراؓ ، حسینؓ اور حسنؓ کا غلام ہوں مہرِ علی کی مُہر ہے مجھ پر لگی ہوئی قربان اے خیالِ رُخِ مصطفیٰ ! ترے رونق ہے ایک ذہن کے اندر […]

غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے

لِوائے حمد کے سائے میں سر اُٹھا کے چلے چراغ لے کے جو عشاق مصطفےٰ کے چلے ہوائے تُند کے جھونکے بھی سر جھکا کے چلے وہیں پہ تھم گئی اک بار گردشِ دوراں جہاں بھی تذکرے سلطانِ انبیاء کے چلے یہ کس کا شہر قریب آ رہا ہے دیکھو تو دُرود پڑھتے ہوئے قافلے […]

ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں

جھونس رہا ہے تن من ہمرا نِیر بھر آئے اَکھین ماں دُور بھئے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماں پُورب پچھم اُتر دکھن ڈھونڈ پھری مَیں بن بن ماں یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پر ساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گُلشن ماں درشن کی پیاسی ہے نجریا […]