بے مثل ہے کونین میں سرکار کا چہرہ

آئینہِ حق ہے شہہِ ابرار کا چہرہ دیکھیں تو دعا مانگیں یہی یوسفِ کنعاں تکتا رہوں خالق ! ترے شہکار کا چہرہ خورشیدِ حلیمہ! تری مشتاق ہیں آنکھیں بھاتا نہیں اب ماہِ ضیا بار کا چہرہ اے خُلد کروں گا ترا دیدار بھی لیکن اِس دم ہے نظر میں ترے مختار کاچہرہ والشمس کی یہ […]

تذکرہ سُنئیے اب اُن کا دِلِ بیدار کے ساتھ

جِن کا ذِکر آتا ہے اکثر شاہِ ابرار کے ساتھ صِرف زینبؑ کا وہ خُطبہ سرِ دربار نہ تھا رُعب حیدرؑ کا بھی تھا جُراٗتِ اِظہار کے ساتھ بیڑیاں، صدمہ، سفر، پیاس، نقاہت، صحرا ظلم کیا کیا نہ ہُوئے عابؑدِ بیمارکے ساتھ ہائے وہ کِسطرح بازارسے گزرے ہونگے نام تک جِن کا نہ آیا کبھی […]

دل ہوا روشن محمد کا سراپا دیکھ کر

ہوگئیں پُر نُور آنکھیں اُن کا جلوہ دیکھ کر دنگ ہے دنیا ، عقیدت کا یہ نقشا دیکھ کر سجدہ کرتی ہے جبیں نقشِ کفِ پا دیکھ کر شانِ محبوبِ خدا کا غیر ممکن ہے جواب کہہ اٹھا سارا زمانہ ، ساری دنیا ، دیکھ کر جھوم اُٹھے گی آرزو ، دل کی کلی کِھل […]

مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا

حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا میں کہ زرہ ہوں مجھے وسعتِ صحرا دےدے کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو دریا کرنا میں ہوں بےکس تیرا شیوہ ہے سہارہ دینا میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے کہ تیری شان کے […]

لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے

مری سوئی قسمت جگائی گئی ہے نہیں تھا کسی کو جو منظر پہ لانا تو کیوں بزمِ عالم سجائی گئی ہے صبا سے نہ کی جائے کیوں کر محبت بہت اُن کے کوچے میں آئی گئی ہے یہ کیا کم سند ہے مری مغفرت کی ترے در سے میت اُٹھائی گئی ہے وہاں تھی فدا […]

دل ہوا جس وقت یک سُو ،جب بھی تنہائی مِلی

ہم کو محبوبِ خدا کی جلوہ آرائی مِلی سلسبیل و کوثر و تسنیم مولا کا کرم ہر قدم پر حشر میں ہم کو پزیرائی ملِی آنکھ کھولی تھی جنہوں نے شرک کے ماحول میں ایسے اندھوں کو بھی اُن کے در سے بینائی مِلی ہو سکی حاصل نہ جس کو نسبتِ خیرالورٰی دو جہاں میں […]

تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ

کہ ہے گود میں مُصطفائی حلیمہ یہ کیا کم ہے تیری بڑائی حلیمہ ‘​‘​زمانے کے لب پر ہے’’مائی حلیمہ بہت لوریاں دِیں مہِ آمنہ کو کہاں تک ہے تیری رسائی حلیمہ جو ہے آخری اک شہکارِ قدرت وہ صورت ترے گھر میں آئی حلیمہ میسّر نہیں ہے کسی کو جہاں میں وہ دولت جو تم […]

میں رہ کی خاک بن کران کی گلیوں میں پڑی ہوتی

یا سنگ آستاں بن کر کہیں در پر جڑی ہوتی شہ لولاک جس جنگل میں ریوڑ لے کے جاتے تھے خدایا ! کاش اس جنگل میں میری جھونپڑی ہوتی گزرتے آپ گلیوں سے میں گلیاں چومتی پھرتی زیارت ہو تو جاتی ، گو گھڑی یا دو گھڑی ہوتی نکلتا چاند حجرے سے تو ،سورج کو […]

اُن کا تصور اور یہ رعنائیِ خیال

دل اور ذہن محو پذیرائیِ خیال مرکز ہوں اک وہی مِرے ذوقِ خیال کے یکتا ہیں وہ، تو چاہیے یکتائیِ خیال ممکن نہیں کہ وصف بیاں اُن کے ہو سکیں محدود کس قدر ہے یہ پہنائیِ خیال بے حرف و صوت بھی یہاں ممکن ہے التجا کافی ہے عرضِ حال کو گویائیِ خیال ہر ذرہ […]

ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی

بہت ظلم ڈھائے ہیں اہلِ ستم نے ، دہائی تری اے غریبوں کے والی نہ پوچھو دلِ کیفِ ساماں کا عالم ، ہے پیشِ نظر ان کا دربارِ عالی نگاہوں میں ہیں پھر حضوری کے لمحے ، تصور میں ہے ان کے روضے کی جالی جبیں خیر سے مطلعِ خیر احساں ، بدن منبعِ نور […]