یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا

نظر ان کی پڑی تو ہم ہوئے پل بھر میں کیا سے کیا مرے دل کی وہ دھڑکنیں دمِ فریاد سنتے ہیں متوجہِ جو ہیں ، وہ ہیں ، مجھے بادِ صبا سے کیا نظر ان کی جو ہو گئی اثر آیا دعا میں بھی مرے دل کی تڑپ ہی کیا ، مرے دل کی […]

عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی

کِھل اُٹھا رنگِ چمن ، پُھولوں کو رعنائی ملی سبز گنبد کے مناظر دیکھتا رہتا ہوں میں عشق میں چشمِ تصور کو وہ گیرائی ملی جس طرف اُٹھیں نگاہیں محفلِ کونین میں رحمۃ للعٰلمین کی جلوہ فرمائی ملی ارضِ طیبہ میں میسر آگئی دو گز زمیں یوں ہمارے منتشر اجزا کو یکجائی ملی اُن کے […]

منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار

کسی بھی ادارے کی ترقی کے لئے نظم و نسق ،انتظام اور انتظامیہ نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے ادارہ ادب بھی اس اصول سے خارج نہیں ہمارے ہاں موجودہ صدی میں یہ بات اب عام مشاہدہ میں ہے کہ نسل نو کتاب بینی سے جی چراتی اور دور بھاگتی ہے نتیجتا مطالعے کی کمی […]

اس کو نہ چھو سکے کبھی رنج و بلا کے ہاتھ

اٹھے ہیں جس کے حق میں رسولِ خدا کے ہاتھ بھیجا گیا ہے دین رسولِ خدا کے ہاتھ ایسا چراغ، دُور ہیں جس سے ہوا کے ہاتھ دیکھوں گا جب بھی روضہ ء اقدس کی جالیاں چُوموں گا فرطِ شوق سے پیہم لگا کے ہاتھ گیسوئے مصطفی سے یقینا ہوئی ہے مس خوشبو کہاں سے […]

نور آنکھوں میں تو چہروں پہ اُجالے ہوں گے

نور آنکھوں میں تو چہروں پہ اُجالے ہوں گے​ مصطفی والوں کے انداز نرالے ہوں گے​ حشر میں اُن کی شفاعت کے حوالے ہوں گے​ ہم گنہگاروں کو سرکار سنبھالے ہوں گے​ نزع میں ان کے تصور سے مقدر چمکا​ قبر میں اب تو اُجالے ہی اُجالے ہوں گے​ اُن کی ہر ایک صفت جب […]

کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر

خلد دیکھے کون ، کوئے شاہِ بطحٰی چھوڑ کر دل کی بستی اور ارمانوں کی دنیا چھوڑ کر ہائے کیوں لوٹے تھے ہم شہرِ مدینہ چھوڑ کر گھر سے پہنچے اُن کے روضے پر تو ہم کو یوں لگا جیسے آ نکلے کوئی گُلشن میں ، صحرا چھوڑ کر کون نظروں پر چڑھے حُسنِ حقیقت […]

بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون

وہ نہ بلوائیں تو اُن کے در پہ جاسکتا ہے کون خالقِ کُل، مالکِ کُل ، رازقِ کُل ہے وہی یہ حقائق جز شہ بطحٰی بتا سکتا ہے کون اک اشارے سے فلک پر چاند دو ٹکڑے ہُوا معجزہ یہ کون دیکھے گا؟ دکھا سکتا ہے کون کس کی جرات ہے نظر بھر کر اُدھر […]

محمد باعثِ حُسن جہاں ایمان ہے میرا

محمد حاصلِ کون و مکاں ایمان ہے میرا محمد اوّل و آخر محمد ظاہر و باطن محمد ہیں بہر صورت عیاں ایمان ہے میرا شرف اِک کملی والے نے جنہیں بخشا ہے قدموں میں وہ صحرا بن گئے ہیں گلستاں ایمان ہے میرا محبت ہے جسے غارِ حرا میں رونے والے سے وہ انساں ہے […]

مر کے اپنی ہی اداؤں پہ اَمر ہو جاؤں

اُن کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں اُن کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یارب کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گوہر ہو جاؤں میرا محبوب ہے وہ راہبرِ کون و مکاں جس کی آہٹ بھی […]