مجھے غرض ھے ستارے نہ ماھتاب کے ساتھ

چمک رھا ھے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ نپی تُلی سی محبت ، لگا بندھا سا کرم نبھا رھے ھو تعلق بڑے حساب کے ساتھ مَیں اِس لیے نہیں تھکتا ترے تعاقب سے مجھے یقیں ھے کہ پانی بھی ھے سراب کے ساتھ سوالِ وصل پہ اِنکار کرنے والے ! سُن سوال […]

سکوتِ شام میں گونجی صدا اُداسی کی

کہ ھے مزید اُداسی دوا اُداسی کی بہت شریر تھا مَیں اور ھنستا پھرتا تھا پھر اِک فقیر نے دے دی دُعا اُداسی کی چراغِ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا کہ آج رات چلے گی ھوا اُداسی کی امورِ دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں یہاں فقط تری چلتی ھے یا اُداسی کی […]