مجھے غرض ھے ستارے نہ ماھتاب کے ساتھ
چمک رھا ھے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ نپی تُلی سی محبت ، لگا بندھا سا کرم نبھا رھے ھو تعلق بڑے حساب کے ساتھ مَیں اِس لیے نہیں تھکتا ترے تعاقب سے مجھے یقیں ھے کہ پانی بھی ھے سراب کے ساتھ سوالِ وصل پہ اِنکار کرنے والے ! سُن سوال […]