میاں محمد بخش (1830 تا 1907)

میاں محمد بخش ، کلام اور آسان تفہیم پنجابی زبان کے مقبول شاعر میاں محمد بخشؒ کی ولادت کھڑی کے گاؤں گوجر پِنڈ میر پور آزاد کشمیر میں  ہوئی. میاں محمد بخش کا تعلق گجر برادری سے تھا، آپ کا نسب فاروق اعظمؓ سے جا ملتا ہے. میاں محمد بخش کے والد میاں شمس الدین […]

شاعری

فلک زاد دیوی تمہیں کیا خبر ہے کہ اک خاک زادہ پروں کی جگہ عشق کے طوق باندھے زمانوں سے پرواز کی خواہشوں میں مگن اپنے سوکھے ہوئے خاکداں میں پھڑکتا رہا تھا بدن جو کہ یوں بھی فقط خاک تھا، خاک پر رینگتا تھا اسی خاک کے زرد جالوں میں الجھے ہوئے سوچتا تھا […]

اپنے قلم کو ذات کا درباں کیے ہوۓ

لکھتا ہوں عشق درد کا ساماں کیے ہوۓ پہلے تو ڈھونڈتا تھا میں مضمونِ شاعری اب لکھ رہا ہوں خود کو ہی عنواں کیے ہوۓ "​لکھا ہے لفظِ عشق کا معنی "​عجیب تر عاشق پڑھیں انگشت بدنداں کیے ہوۓ مرہم لگا رہا ہوں میں کاغذ کو دوستو اور زخمِ دل کے سر پے نمکداں کیے […]

ہے عرش پہ قوسین کی جائے محمد

رشک ید بیضا ہے کف پائے محمد عیسیٰؑ سے ہے بڑھ کر لب گویائے محمد یوسفؑ سے بڑھ کر رخ زیبائے محمد والشمس تھے رخسار تو واللیل تھیں زلفیں اک نور کا سورہ تھا سراپائے محمد اندھیر ہوا کفر کا سب دور جہاں سے روشن ہوا عالم جو یہاں آئے محمد عصیاں سے بری ہو […]

چاندنی شرماتی ہے آقا کا دامن دیکھ کر

خلد للچا جائے گی طیبہ کا گلشن دیکھ کر مرضی محبوب کا تعلق ہے رب کائنات رخ بدلتا ہے فلک آقا کے چتون دیکھ کر چرخ کا دامن تو سیاروں سے تاباں ہے مگر وہ بھی گردش میں ہے ان کا نوری آنگن دیکھ کر وہ مطہر وہ مز کی ان کا گھر مینار نور […]

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق

کہاں تھی تیرے یہاں اونچ نیچ کی تفریق چراغ جادۂ ہستی ترا پیام بنا ترے درود سے نوعِ بشر کا کام بنا ہوا نہ ہوگا کوئی تجھ سا خلق یارو خلیق کہاں تھی تیرے یہاں اونچ نیچ کی تفریق تری نظر میں ہے جو ہورہا ہے آج یہاں بنام نور ہے ظلمت کے سر پہ […]

شوق و نیاز عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ

یہ کوچۂ حبیب ہے پلکوں سے چل کے آ امت کے اولیا بھی ادب سے ہیں دم بخود یہ بارگاہِ سرور دیں ہے سنبھل کے آ آتا ہے تو جو شہر رسالت مآب میں حرص و ہوا کے دام سے باہر نکل کے آ ماہِ عرب کے آگے تری بات کیا بنے اے ماہتاب روپ […]

خیال افروز ہے نام محمد

بہت افضل ہے پیغام محمد رہے گا تا ابد سرشار و بے خود ملا جس رند کو جام محمد دل و جاں کیوں نہ ہوں مرہون منت دل و جاں پر ہے اکرام محمد ہوا عرفان ہست و بود اس کو سنا جس نے پیغام محمد فراز زندگی کا ہے یہ زینا جسے کہتے ہیں […]

تاحشر مجھے ان کی غلامی میں رکھا جائے

ممکن ہے مرا نام بھی تاریخ میں آ جائے کاش ایسا قصیدہ بھی کسی روز لکھا جائے جا کر جسے خود روضہ آقا پہ پڑھا جائے اے کاش کہ لگ جائیں کبوتر کے مجھے پر اے کاش مدینے کی فضاؤں میں اڑا جائے مرقوم ہو جس دل پہ ترے نام کا کتبہ اس کتبے کی […]

اکّا دکّا لوگ سیانے ہوتے تھے

کسی کسی کے گھر میں دانے ہوتے تھے سو تک گنتی کسی کسی کو آتی تھی ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے گاؤں میں بس ایک ہی مسجد ہوتی تھی ہر دل میں بس چار ہی خانے ہوتے تھے جھوٹی قسمیں شہر میں تھیں اور گاؤں میں بس تکیے پر پھول بنانے ہوتے تھے […]