یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم
خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن
معلیٰ
خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن
ہم نے ناحق ہی گنوایا اسے آرائش میں
تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے
سمجھے ہے موسم اسے برسات کا
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
پر اتنا تھا کہ کوئی ساتھ رونے والا تھا
کیا میں اس کو لکھ کر بھیجوں آؤ کافی پیتے ہیں کیا اس کو معلوم نہیں ہے موسم کتنا آسم ہے ؟
ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم
اتنی جلدی ترے دفتر سے نہیں نکلے گا
کہ بدلا ہی نہیں جاناں تمہارے بعد کا موسم