ان کا خیال ہے مری دنیا کہیں جسے

ان کا جمال ہے مرا کعبہ کہیں جسے ان کے بغیر کون ہے اس کائنات میں مجھ سے فقیر مالک و مولا کہیں جسے در ہے انہی کا جس کو سمجھئے خدا کا در ان کی گلی ہے عرش معلیٰ کہیں جسے پیش از طلب ہی دیتے ہیں بیش از طلب حضور کیا آئے لب […]

اسی انسان سے مجھے بوئے وفا آتی ہے

خوش جسے طاعت محبوب خدا آتی ہے دوستو جشن تعیش میں نہ لے جاؤ مجھے مجھ کو فکر شہ والا سے حیا آتی ہے سفر راہ شریعت نہیں آساں اس میں منزل جان شکن کرب وبلا آتی ہے نگہت و رنگ امڈ پڑتے ہیں صحن دل میں جب مدینے سے کوئی موج صبا آتی ہے […]

کوثری تنہا نہیں ہے مصطفیٰ کے ساتھ ہے

جو نبی کے ساتھ ہے وہ کبریا کے ساتھ ہے کس لیے پھر درپئے آزار ہیں اشرار قوم اس کا کیا کرلیں گے جو خیرالوری کے ساتھ ہے کچھ نہیں حسرت ید بیضا کی مجھ کو اے کلیم ہاتھ اپنا دامن آل عبا کے ساتھ ہے انکشاف مدعا پیش احد میں کیا کہوں میم احمد […]

نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے

میں رات دن پڑھ رہا ہوں اس کو جو زندگی کے نصاب میں ہے نفاذ حق میں یہ دیر کیسی حضور کی اتباع کر لو نظام دیں کا تو ذکر ساری خدا کی اپنی کتاب میں ہے وہ نور جس سے ہوا منور تمام عالم کا گوشہ گوشہ اسی سے ہے آفتاب روشن وہ مصحف […]

میں آفتاب کہوں یا اسے ستارہ لکھوں

اسے لکھوں میں سمندر اسے کنارہ لکھوں زمانے بھر کی کڑی دھوپ کی تمازت میں میں دوجہاں کا اسے آخری سہارا لکھوں ہے اس کے سوچ چراغوں کی روشنی میں لکھی عبارتوں کے ہر اک لفظ کو ستارہ لکھوں دلوں میں اسم محمد کی جگمگاہٹ کو جہاں میں بہتا ہوا روشنی کا دھارا لکھوں میں […]

دم میں اپنے بھی جب تلک دم ہے

شکر جتنا کریں ترا کم ہے ہر مرض کا علاج ذکر ترا تیرا ہر نام اسمِ اعظم ہے تیری خواہش ہے یہ ہست و بود تیری منشا دوامِ عالم ہے پھر یہ نبضوں میں کس لئے تیزی کیوں نظام جہاں یہ برہم ہے میرے مالک بہار آجائے میرا موسم خزاں کا موسم ہے نوحہ خواں […]

تنہائیوں میں جب بھی پڑھوں نعت مصطفیٰ

بخشے مجھے عجیب سکون نعت مصطفیٰ آنکھوں میں آنسوؤں کے سمندر ابل پڑیں قرطاس دل پہ جب بھی لکھوں نعت مصطفیٰ عصیاں زدہ ہوں دل میں تمنا ہر گھڑی پڑھتے ہوئے میں کا ش مروں نعت مصطفیٰ ہر وقت ان کی یاد کے روشن دیے رہیں بھیجا کرو درود کہوں نعت مصطفیٰ اپنے نبی کے […]

الہٰی وہ زباں دے جو ثناء خواں محمد ہو

ثناء ایسی جوہر آئینہ شایان محمد ہو وہ جان پاک دے یارب جو قربان محمد ہو وہ دل دے جو شکار تیر مژگان محمد ہو جنون عشق و گرما گرمی سوز محبت سے یہ آوارہ ہو اور دشت و بیابان محمد ہو شراب شوق سے لبریز ہو پیمانہ الفت نگار حسن ہو میں ہوں خیابان […]

اس شخص کی قسمت میں نہ دنیا ہے نہ دیں ہے

شامل جو غلامان محمد میں نہیں ہے یہ اپنا عقیدہ ہے، یہی اپنا یقیں ہے ہم دور ہوں اس ذات سے وہ دور نہیں ہے اللہ کا محبوب سر عرش بریں ہے امت کے سوا ذکر کوئی اور نہیں ہے دنیا ہو کہ محشر ہو، سفر ہو کہ حضر ہو کیا خوف کہ جس دل […]