مجھے پسند ہے تیرے فراق کا موسم
مجھے عزیز ہیں غم تیری شادمانی کے
معلیٰ
مجھے عزیز ہیں غم تیری شادمانی کے
کسی حَسِین کو آواز دو خدا کے لِیے
رُت بدلتی ہے تو زنجیر بدل جاتی ہے
عظیم تر ہے عبادت شباب کی لیکن یہی گناہ کا موسم ہے کیا کیا جائے
سرد موسم نے ٹھٹھرتے ہوئے سورج سے کہا چادر ابر تو ہے ، ڈھانپ لے عریانی کو
رِیت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں
یہ برف موسم جو شہرِ جاں میں کُچھ اور لمحے ٹھہر گیا تو لہو کےدل کا کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا
سب تیرے بچھڑنے کے اِشارے ہیں کم و بیش
یہی موسم جناب دے دیجئے