تم بھی شاید وہیں سے آۓ ھو
تم بھی شاید وہیں سے آئے ھو اچھے موسم جہاں سے آتے ھیں
معلیٰ
تم بھی شاید وہیں سے آئے ھو اچھے موسم جہاں سے آتے ھیں
آئینہ ہنسنے لگا ہے میری تیاری پر
اس میں شامل ہے سرد مہری بھی
میری خود سے رہیں ملاقاتیں
تمہارے وصل کے لمحے نہ میری جاں گزرے
وہی لاریب محبوبِ خُدا ہیں شہنشاہ اُن کے در پہ دستِ بستہ خمیدہ سر ظفرؔ جیسے گدا ہیں
خدا کا نُور ہے اُن کی گلی میں یہاں کا رنگ، خوشبو جانفزا ہے ظفرؔ مسرُور ہے اُن کی گلی میں
وہ مسجودِ ملائک بے گماں ہیں وہی ہیں وجہِ تخلیقاتِ عالم وہی فخرِ زماں، کون و مکاں ہیں
خدا تک رہنما میرے محمد وہ ہم دردِ غریباں و امیراں کہیں شاہ و گدا میرے محمد
سرور و کیف سے معمور رکھنا میں ہوں دامن دریدہ، دل تپیدہ مجھے دامن میں ہی مستور رکھنا