سلیم اختر کا یوم وفات

آج نامور اردو نقاد اور افسانہ نگار ڈاکٹر سلیم اختر کا یوم وفات ہے (11 مارچ 1934ء – 30 دسمبر 2018ء) —— ڈاکٹر سلیم اختر پاکستان کے نامور اردو نقاد ،افسانہ نگار، ماہرِ لسانیات، ماہرِ اقبالیات، ادبی مؤرخ، معلم اور محقق تھے جو اپنی کتاب اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ کی وجہ سے شہرت […]

طاقِ نسیاں سے اُتر ، یاد کے دالان میں آ

بھولے بسرے ھوئے اے شخص ! مرے دھیان میں آ عین مُمکن ھے کہ ھو جائے جو نامُمکن ھے تُو کسی روز مرے حلقۂ امکان میں آ آج کے بعد اگر آیا تو کیا آیا تُو تجھ کو آنا ہے مری جان تو اِس آن میں آ یار تاخیر سے آئے ہیں مگر آ تو […]

ابنِ حنیف کا یومِ پیدائش

آج پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ادیب، ماہرِ آثار قدیمہ، محقق اور مورخ ابنِ حنیف کا یومِ پیدائش ہے ۔ (پیدائش: 30 دسمبر 1930ء – وفات: 29 جولائی 2004ء) —— مرزا ابنِ حنیف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ادیب، ماہرِ آثار قدیمہ، محقق اور مورخ تھے جو اپنی کتب […]

مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے

تمہارا غم مری طاقت ہے ، کمزوری نہیں ہے انا کو بیچ میں لانے سے پہلے سوچ لینا محبت عاجزی ہے ، کوئی منہ زوری نہیں ہے ٹہلنے باغ میں آتے ہو جس نیت سے تم لوگ میاں! وہ حوا خوری ہے ، ہوا خوری نہیں ہے بھلے تم ہاتھ کاٹو یا مری گردن اُڑا […]

اُس نے اتنا تو کرلیا ہوتا

بات بڑھنے سے روک لی ہوتی تیری زلفیں نصیب تھیں ورنہ میں کہیں اور الجھ گیا ہوتا تجھ سے بچھڑے تو ہوگئی فرصت وقت نے کتنی جلد بازی کی میں، مرے زخم، میری تنہائی تجھ سے کس نے کہا ادھورا ہوں آئینے سے تمہارے بارے میں بات کرنا عجیب لگتا ہے بات بے بات چپ […]

شہرِ بے رنگ میں کب تجھ سا نرالا کوئی ہے

تُجھ کو دیکھوں تو لگے عالمِ بالا کوئی ہے کبھی گُل ہے ، کبھی خوشبو، کبھی سورج ، کبھی چاند حُسنِ جاناں! ترا اپنا بھی حوالہ کوئی ہے ؟ ہاتھ رکھ دل پہ مرے اور قسم کھا کے بتا کیا مِری طرح تجھے چاہنے والا کوئی ہے ؟ رونا آتا ہے تو یُوں تیری طرف […]

اِک تُو ہی نظر آئے جس سمت نظر جائے

اے صُورتِ دلدار! کوئی بچ کے کدھر جائے ہم نے تو سرِ دستِ دُعا رکھ دیے دونوں اب چاہے ترے عشق میں دل جائے کہ سر جائے اے خُوگرِ گریہ! کوئی پل دم بھی لیا کر آنکھوں کا یہ پانی کہیں سر سے نہ گُذر جائے تقدیر جو بگڑی ہے تو کچھ وقت لگے گا […]

بے گھر ہوئیں تو گھر کی ضرورت نہیں رہی

چڑیوں کو پھر شجر کی ضرورت نہیں رہی پہلی نظر میں یار مجھے حِفظ ہو گیا سو دوسری نظر کی ضرورت نہیں رہی برسوں کی دوڑ دھوپ سے گھر تو بنا لیا پھر یوں ہوا کہ گھر کی ضرورت نہیں رہی رو دھو کے اِک دن آنسو مرے خُشک ہو گئے پھر مجھ کو چشمِ […]