چہرۂ اقدس بدرِ مُنیر
پھیل گئی ہرسُو تنویر اُن کی باتیں پُر تاثیر اُن کی محبت عالم گیر
معلیٰ
پھیل گئی ہرسُو تنویر اُن کی باتیں پُر تاثیر اُن کی محبت عالم گیر
ہوا نازل کلام اُن پر خدا کا شفیع المذنبیں، محبوبِ یزداں سدا فضلِ دوام اُن پر خدا کا
مدینہ کی ڈگر دے دے خُدایا درِ محبوب تک دے دے رسائی ظفرؔ کو بال و پر دے دے خُدایا
پورا اتروں تو وہ معیار بدل دیتا ہے
آؤ کر لیں ثواب کی باتیں
مری سقراط سوں رسمِ محبت یوں ادا ہو گی
وائے! خوش فہمیاں محبت کی دل سرِ شام ہی جلا ڈالا ہائے! بے چینیاں محبت کی
دھیان رکھنا کہ تھک نہ جائے کوئی
بادل کی طرح آنکھ سے برستا بھی وھی ھے
عام لوگوں سے اگر خاص محبت ہو جائے