خوف یہ ہے کہ مَحبَّت کا جواں سال غُرور!
خوف یہ ہے کہ مَحبَّت کا جواں سال غُرور ایک پل میں نہ کہیں رزقِ اَنا ہو جائے
معلیٰ
خوف یہ ہے کہ مَحبَّت کا جواں سال غُرور ایک پل میں نہ کہیں رزقِ اَنا ہو جائے
سر منصور ہی کا بار آیا
عشق کے خوش گمان موسم میں پتھروں پر گلاب کِھلتے ہیں
یہاں ہر سو ہجومِ عاشقاں ہے سلامی کو ملائک آ رہے ہیں خمیدہ سر یہاں ہر انس و جاں ہے
نہ چھوڑیں جوایسےمیں بھی پارسائی تم انکے لئے کوئی انعام رکھ دو
ہے جاری ہر گھڑی فیضان اُن کا بڑا ہی پُر شکوہ یہ مرتبہ ہے سگِ در ہے ظفرؔ دربان اُن کا
محبت آپ کی میرے رگ و پے میں سمائی ہے بباطن قرب و یک جائی بظاہر گو جدائی ہے اُنہیں کے دم سے تابندہ ظفرؔ ساری خدائی ہے
فضاؤں میں، مکان و لامکاں میں جبیں میری ہے اُنؐ کے آستاں پہ مری پرواز ہے ہفت آسماں میں
دِلوں میں عشق ہے، وارفتگی ہے مری سرکار کی آمد ہے سُن لو درُودوں کی فضا میں نغمگی ہے
گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں ، من میں کیا کیا موسم ہیں اس بگھیا کے بھید نہ کھولو، سیر کرو، خاموش رہو