عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اُڑتی ہے
وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں
معلیٰ
وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں
محبت کی مجھے سوغات دے دیں سدا لکھوں میں حمد و نعت یا رب زباں پر میری، اپنی بات دے دیں
شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہے یہاں کوئی بھی ہو موسم بہار باقی ہے
مرے لب پر نبی کی بات دے دیں اُتر جائیں جو ہر اِک سنگدل میں مجھے وہ دل نشیں کلمات دے دیں
نئی رُتوں میں نئے غم کی واپسی ہوگی
یہاں عشاق نے ہر دم جبیں اپنی جھکائی ہے یہاں عشقِ حبیب کِبریا تقسیم ہوتا ہے ظفرؔ اُمڈی چلی آتی یہاں ساری خدائی ہے
ہیں محسن آپ انسانوں کے محبوبِ خدا ہیں حبیب کبریاؐ لاریب ہیں پیہم سدا ہیں ظفرؔ ننگے سروں پر آپؐ رحمت کی رِدا ہیں
مدینہ اُڑ کے پہنچوں بال و پر دے میں ہوں بے آسرا، بے گھر خدایا مجھے سرکار کے قدموں میں گھر دے
حبیبِ کبریا، خیر الوریٰ کا وہ پائے گا جو مانگے گا خُدا سے وسیلہ گر ہو محبوبِ خدا کا
مرے خیر الوریٰ میرے محمد خزاؤں میں بہاریں لوٹ آئیں ہوئے جلوہ نما میرے محمد