جو ہو نگہِ کرم بے بال و پر پرواز کر جائے
پئے عشاق روشن اِک نیا انداز کر جائے شکستہ پر پرندہ بھی درِ سرکار تک پہنچے محبت میں نئے اِک باب کا آغاز کر جائے
معلیٰ
پئے عشاق روشن اِک نیا انداز کر جائے شکستہ پر پرندہ بھی درِ سرکار تک پہنچے محبت میں نئے اِک باب کا آغاز کر جائے
میں نعتِ مصطفیٰ دِن رات لکھوں درُود اُن پر سلام اُن پر مَیں بھیجوں ہیں محبوبِ خدا دِن رات لکھوں
ایسے موسم میں بھلا چھوڑ کے جاتا ہے کوئی؟
موسم خوشی کا وقت سے پہلے گزر گیا
جو پھول سب سے حسیں موسم بہار میں تھا
کس اذیت ناک موسم سے مری یاری ہوئی
عشق صدمے بحال رکھتا ہے
فقیر بھیک لیے بِن دُعا نہیں کرتا زباں کا تلخ ھے لیکن وہ دل کا اچھا ھے سو اُس کی بات پہ مَیں دِل بُرا نہیں کرتا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری جب تک زباں ہے منہ میں جاری ہو نام تیرا ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا احمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول تیرا مصحف کلام تیرا ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی […]
خاکی تو وہ آدم جد اعلیٰ ہے ہمارا اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالم اس خاک پہ قرباں دل شیدا ہے ہمارا خم ہو گئی پشتِ فلک اس طعنِ زمیں سے سن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ […]