میں اِک بھُوکا تھا پیاسا تھا مُسافر
گِرا سرکار کے قدموں میں آ کر مٹائی بھوک آقا نے بجھائی پیاس میری محبت کی عطا اپنی، بنا ڈالا تونگر
معلیٰ
گِرا سرکار کے قدموں میں آ کر مٹائی بھوک آقا نے بجھائی پیاس میری محبت کی عطا اپنی، بنا ڈالا تونگر
یہاں ہر ایک موسم کو گزر جانے کی جلدی تھی
موسم کے ساتھ ساتھ بدلتا ہے رنگ و روپ یہ پیڑ واقعی کوئی انسان ہی نہ ہو
وہی تو رہبر دُنیا و دیں ہیں وہی تو رحمۃ اللعالمیں ہیں ظفرؔ وہ ربِّ اکبر کے قریں ہیں
مرے اللہ مجھے نورِ بصر دے مری نعتوں میں یا رب وہ اثر دے جو ہر اک سنگدل کو موم کر دے
مری آواز محبوبِ خُدا کے آستاں تک ہے مری فریاد سُنتے اور دِلاسہ مجھ کو دیتے ہیں نیاز و راز محبوبِ خُدا کے آستاں تک ہے
زمیں کا حُسن ہے، جنت نشاں ہے یہی مرکز نگاہِ انس و جاں ہے یہی آما جگاہِ عاشقاں ہے
تنِ لاغر میں، جسمِ ناتواں میں مرے اسلوب و اندازِ بیاں میں مرے افکار میں، روحِ رواں میں
قسم ہے شافعِ روزِ جزا کی محبت منفرد، ممتاز یکتا محبت مصطفیٰؐ سے ہے خدا کی
جفا و جور کی رُوداد سُن لیں ہے اُمت آپ کی کرب و بلا میں کریں امداد اب فریاد سُن لیں