وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا نگاہ عشق و مستی میں وہی اول ، وہی آخر وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یسیں ، وہی طہ سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا
معلیٰ
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا نگاہ عشق و مستی میں وہی اول ، وہی آخر وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یسیں ، وہی طہ سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا
وجہِ تسکینِ جاں ، سرورِ دو جہاں رفعتِ بیکراں ، ماورائے گماں آپ کا نقشِ پا ، سدرۃ المنتہیٰ راستہ بن گیا ، کہکشاں کہکشاں آپ سے مُشکبُو ہے فضا چار سُو آپ کی جستجو ، گلستاں گلستاں آپ نور الہدیٰ ، آپ خیر الورٰی مرحبا مرحبا ، دلبرِ دلبراں شافَعِ عاصیاں ، والئ بیکساں […]
کہ ہے اپنے پیارے کا پیارا محمد الہی یہ محشر میں ہم کہتے جائیں کہاں ہے کہاں ہے ہمارا محمد وہیں کشتیِ نوح بھی ڈوب جاتی نہ دیتے جو اس کو سہارا محمد ابھی فرش سے عرش مل جائے جھک کر کریں گر طلب کا اشارا محمد یہی بات عاشق نے معشوق سے کی نہیں […]
پیاس نے شان سے دریائے طلب پار کِیا ذائقے سینکڑوں موجود تھے لیکن ھم نے ھجر کا روزہ تری یاد سے افطار کِیا
ہر قدم پر تجھے سجدے بھی کئے جاتا ہوں کوئی دنیا میں مرا مونس و غمخوار نہیں تیری رحمت کے سہارے پہ جئیے جاتا ہوں تیرے اوصاف میں اک وصف خطا پوشی ہے اس بھروسے پہ خطائیں بھی کئے جاتا ہوں آزمائش کا محل ہو کے مسرت کا مقام سجدۂ شکر بہرحال کئے جاتا ہوں […]
نہ دیکھ میری طرف چشمِ نیم خواب کے ساتھ ارے ! یہ صرف بہانہ ھے بات کرنے کا مری مجال کہ جھگڑا کروں جناب کے ساتھ ؟ تم اچھی دوست ھو ، سو میرا مشورہ یہ ھے ملا جُلا نہ کرو فارسِ خراب کے ساتھ
حقا کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا جس مسند عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے کیا تاب گزر ہووے تعقل کے قدم کا بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دَیر و حَرم کا ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب […]
مری دُھائی سُنیں، اے مُحمّدِ عَرَبی مَیں پیاسا قتل ھُوا، ھائے میری تشنہ لَبی حضُور ! مَیں نے نہیں کی تھی کوئی بےاَدَبی مری تو چیخیں بھی سب رہ گئیں گلے میں دبی بغیر جُرم اذیّت کے گھاٹ اُتارا گیا حضُورِ والا ! مُجھے بے قصُور مارا گیا حضُور ! میری شریکِ حیات روتی ھے […]
محبوب کی محفل کو محبوب سجا تے ہیں آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں وہ لوگ خدا شاہد قسمت کے سکندر ہیں جو سرور عالم کا میلاد مناتے ہیں جن کا بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں والی اس کو بھی میرے آقا سینے سے لگاتے ہیں دامان کریمی کی وسعت تو ذرا […]
جگ راج کو تاج تو رے سر سو ہے ، تجھ کو شہ دوسرا جانا البحر علا والمود طغےٰ ، من بیکش و طوفاں ہوشربا منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا، موری نیّا پار لگا جانا یا شمس نظرت الیٰ لیلی ، چو بطیبہ رسی عرضے بکنی توری جوت کی جھلمل جگ میں رچی، مری […]