عشق سچا ھے تو کیوں ڈرتے جھجکتے جاویں

آگ میں بھی وہ بُلائے تو لپکتے جاویں کیا ھی اچھا ھو کہ گِریہ بھی چلے ، سجدہ بھی میرے آنسو ترے پیروں پہ ٹپکتے جاویں تُو تو نعمت ھے سو شُکرانہ یہی ھے تیرا پلکیں جھپکائے بِنا ھم تجھے تکتے جاویں دم ھی لینے نہیں دیتے ھیں خدوخال ترے دم بہ دم اور ذرا […]

ضبط کے امتحان سے نکلا

پھُول آخر چٹان سے نکلا جان تن سے نکل گئی لیکن تُو نہیں میرے دھیان سے نکلا نہ نکلنے پہ تھا بضِد سُورج پھر کسی کی اذان سے نکلا شجرہ دیکھا گیا تو پتھّر بھی پھُول کے خاندان سے نکلا اب مکمل ھوئی ھے یکجائی عشق بھی درمیان سے نکلا دے گیا آنکھ کو نمی […]

Selfie

سیلفی ھجر کے بے صدا جزیرے پر کُنجِ تنہائی میں کوئی لڑکی خال و خد پر لگا کے آس کا رنگ چشم و لب پر سجا کے دل کی اُمنگ آنکھوں آنکھوں میں مُسکراتی ھے شام کی سُرمئی اُداسی میں اپنی تصویر خُود بناتی ھے ! ادھ کُھلے ھونٹ، نیم وا آنکھیں بے نوا ھونٹ، […]

سیدِ انس و جاں کا کرم ہوگیا

دور سر سے میرے بارِ غم ہوگیا میں کہ تھا منتشر جادہ ء زیست پر آپ کی اک نگہ سے بہم ہوگیا وہ تبسم فشاں لب جو یاد آگئے مندمل زخمِ تیغِ الم ہوگیا اسمِ سرکار ہونٹوں پہ آیا مرے آنکھ پرنم ہوئی سر بھی خم ہوگیا سیلِ اشکِ ندامت میں وہ زور تھا دفترِ […]

زباں پر مصلحت ، دل ڈرنے والا

بڑا آیا محبت کرنے والا شکستہ پیڑ پر چڑیوں کے نوحے خُدا بخشے ، بھلا تھا مرنے والا ترے دل میں بھی اک دن جا بسے گا ترے پیروں پہ ماتھا دھرنے والا ہمیں بالکل ہی خالی کر گیا ہے ہمارے عشق کا دم بھرنے والا

رہی عمر بھر جو انیسِ جاں وہ بس آرزوئے نبی رہی

کبھی اشک بن کے رواں ہوئی ، کبھی درد بن کے دبی رہی شہ دیں کے فکر و نگاہ سے مٹے نسل و رنگ کے فلسفے نہ رہا تفاخرِ منصبی ، نہ رعونتِ نسبی رہی سرِ دشتِ زیست برس گیا ، جو سحابِ رحمتِ مصطفے نہ خرد کی بے ثمری رہی ، نہ جنوں کی […]

رنگِ ہستی آپ کے فیضان سے نکھرا حضور

آپ کی آمد سے پہلے کب تھا یہ نقشہ حضور آپ کا دین حیات آموز جب پھیلا حضور مٹ گئی یکثر تمیز بندہ و آقا حضور دیدۂ خورشید نے دیکھا نہ دیکھے گا حضور آپ سا خلوت گزین و انجمن آرا حضور

دونوں جہاں کو روشن کرتا ہے نور تیرا

اعیان ہیں مظاہر، ظاہر ظہور تیرا یاں افتقار کا تو امکاں سبب ہوا ہے ہم ہوں نہ ہوں ولے ہے ہونا ضرور تیرا باہر نہ ہوسکی تو قیدِ خودی سے اپنی اے عقل بے حقیقت دیکھا شعور تیرا ہے جلوہ گاہ تیرا کیا غیب کیا شہادت یاں بھی شہود تیرا، واں بھی حضور تیرا جھکتا […]