کیا تم اک بات مجھے کُھل کے بتا سکتی ہو
ایک بوسے کے لئے کتنا ستا سکتی ہو ہم گناہگار سے لڑکے ہیں ہمارا کیا ہے تم فرشتوں کو بھی دیوانہ بنا سکتی ہو
معلیٰ
ایک بوسے کے لئے کتنا ستا سکتی ہو ہم گناہگار سے لڑکے ہیں ہمارا کیا ہے تم فرشتوں کو بھی دیوانہ بنا سکتی ہو
انسانی زندگی کو سمجھنا مشکل کام ھے اور انسانوں کی نفسیات سمجھنا اس سے بھی مشکل ۔۔۔۔ ہر انسان نہ تو مکمل برا ہوتا ہے نا ہی مکمل اچھا ۔۔۔ بس اپنی زندگی کے کچھ پہلوؤں میں وہ مختلف کردار نبھاتا ہے ۔۔ اور ضروری نہیں کہ ہر کردار شاہکار قرار پائے ۔۔ کچھ کرداروں […]
میں بہت اعلیٰ تعلیم یافتہ قسم کی کوئی شخصیت نہیں لیکن مجھے علمی و ادبی لوگوں سے گہری عقیدت ہے ۔ میں اپنے اندر جھانکوں تو بہت سے شعبہ جات سے محبت میرے اندر سرایت کرتی دکھائی دیتی ہے ۔۔اور یہ تمام شعبے اپنی دانست میں یا لوگوں کی نظر میں ایک دوسرے سے یکسر […]
جنوبی ایشیاء کے ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کی خواتین کی زبانیں میزائل بن کے گولے داغنے لگ گئیں ـ کہیں شریعت کے مسائل پہ بات ہوئی ‘ کہیں اس بحث کو ناز و ادا کے زمرے میں گردانا گیا تو کہیں خواتین مساوات کا ڈھنڈورا پیٹتی دکھائی دیں ـ پوری دنیا کے مسائل الگ […]
اُسے کہو کہ مقدر میں کوئی شام لکھے تمہارے بعد محبت نے حوصلہ تو دیا یہ آسرا ہے مگر آسرا ہے تھوڑا سا اُسے خبر ہی نہیں ہے عقیدتوں کے چراغ کہاں جلائے کہاں پر بجھائے جاتے ہیں کبھی جلائے مری شاعری بھرے اوراق کبھی وہ وصل کے پیغام میرے نام لکھے کسی کسی سے […]
مُشتاق احمد یوسفی سے مُلاقات: ایک دیرینہ خواب کی تعبیر "ادھر کچھ ماہ قبل ایک شوخ چنچل لڑکی ھمیں ملی۔ آدھ پون گھنٹے کی گفتگُو کے بعد کہنے لگی کہ یُوسفی صاحب ! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ھیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ھیں”۔ (مُشتاق احمد یوسفی) ???????????? صاحبو ! […]
عصر کی اذان ہونے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا اور وہ دونوں تندہی سے قاعدے کا سبق یاد کرنے میں مگن تھیں ـ اگر سبق صحیح نہ سنایا تو عصر کے بعد کھیلنے کی اجازت نہیں ملتی ـ یہی روز کا معمول تھا ـ ابا ظہر کے وقت گھر آتے ـ قیلولہ فرماتے اور عصر […]
ربِ سُخن ! نواز عطائے کثیر سے مُجھ کو بہم ھو فَیض ھر اُستاد و پِیر سے غالب سے طمطراق ملے، سوز مِیر سے رمزِ غمِ حُسَین انِیس و دبِیر سے خُورشیدِ حرفِ حق مرے لب سے طلُوع ھو مُجھ سے سخن کا سلسلۂ نَو شرُوع ھو تاثیر مرحمت ھو بفیضِ شہِ زمَن فوجِ سُخنوراں […]
ہمارے گھر میں جانور پالنے کا بالکل رواج نہیں تھا ـ بس یہ تھا کہ بڑی اماں جب تک حیات رہیں بچوں کو انڈے کھلانے کے لئے مرغیاں پالتی تھیں مگر یہ بھی ہماری سالم یادداشتوں سے پہلے کی بات ہے البتہ بڑے ہونے پر پرانی تصویروں کے البم میں ہم نے ان مرغیوں کا […]
بنے ھو خَیر سے فرماں روائے خلقِ خُدا سُنو ! یہ مُلکِ خُدا ھے، تُمہارا تخت نہیں کسی کا حق نہیں اس پر سوائے خلقِ خُدا تمام خُون خرابہ خُدا کے نام پہ ھے امان مانگنے کس در پہ جائے خلقِ خُدا ؟ غضب خُدا کا، خُداداد مملکت میں نہیں ذرا سی جائے اماں بھی […]