راول کا پنڈ ‘ راولپنڈی

یہ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن ہے ۔ اس نے جھکا ہوا سر اٹھا کے ریلوے اسٹیشن کی پرانی عمارت کو دیکھا ۔ ویسی ہی تو تھی ‘ بالکل ویسی ۔ جب وہ اسی کی دہائی میں اماں حضور کے ساتھ کراچی گئی تھیں تب بھی عمارت ایسی تھی ۔ لیکن ایسا لوگوں کا یہ اژدھام تب […]

خط بنام سہیلی

سہیلی آداب عرض ہے ۔ بعد از آداب اپنی خیریت کی اطلاع دینا مقصود تھی ۔ لیکن تمھارا سابقہ ریکارڈ مدنظر رکھتے ہوئے اس بار تمھیں اپنا حال احوال نہ بتانے کا قصد کیا ہے ۔ پچھلے خط کے وہ صفحات جن کا طعنہ دیتے ہوئے تم نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے اتنی […]

جو سوئے دار سے نکلے

غزل سننا بھی فن ہے ـ لیکن جب آپ کسی ایسی ہستی کے ساتھ غزلیں سننے بیٹھے ہوں جو ہر مصرعے پہ سر دھننے کے بعد آپ سے اپنے فضول خیالات کی داد چاہے یا لا یعنی سوالات کے جوابات جان لینے پہ مصر ہو تو مت پوچھیے کہ وہ معصوم جو غزل پہ سر […]

جسے مانگتا ہوں میں ہر دعا کی اخیر تک

مرے ذائچے کی وہ ابتدا نہیں ہو رہا تجھے بھولنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں تجھے یاد کرنے کا سلسلہ تو کمال تھا میں اُسی کے ہاتھ میں دے چکا ہوں وجود بھی مجھے لے اُڑا ہے مگر ہوا نہیں ہو رہا مری بے بسی، مری بے کسی، مرے حوصلے مری آرزو، مری آبرو، […]

جب ہم ملے

جن دنوں ہماری زندگی کا واحد مقصد ایک عدد گاڑی کی تلاش ہوا کرتا تھا کہ بس کسی طرح کسی کیری ڈبے کا بندوبست ہو جائے اور ہم اس آفت کار اور مردم بیزار قسم کی گاڑی میں اپنی جان جہاں نما سمو ڈالیں ـ یہ ان ہی دنوں کی بات ہے ـ ایک زمانے […]

اک بہانہ تھا شام سے پہلے

لوٹ آنا تھا شام سے پہلے شام کے بعد جیت جاتے ناں ہار جانا تھا شام سے پہلے رات جو رونے دھونے بیٹھو گے غم سنانا تھا شام سے پہلے اب بھلا رات کیسے گزرے گی دل دُکھانا تھا شام سے پہلے چاہے تم بعد میں مُکر جاتے مان جانا تھا شام سے پہلے یہ […]