آپ نے ہاتھ کیا چھڑایا ہے
جسم پتھر سا ہو گیا میرا
معلیٰ
جسم پتھر سا ہو گیا میرا
غم گساری، گریہ زاری اور ہے پاؤں زخمی ہو گئے تو یہ کھُلا راستوں کی بردباری اور ہے آج شب تیری خوشی کے نام تھی جو ترے غم میں گزاری اور ہے برملا ہنسنا نجاتِ غم نہیں شہرِ غم سے رستگاری اور ہے درد کی مہماں نوازی اور تھی ضبط کی تیمار داری اور ہے […]
آپ ہیں شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ میرے نبی آپ کے فیضان سے زندہ و تابندہ ظفرؔ دم بہ دم ہر دم پکارے ہے سدا میرے نبی
دلرُبا دل نشیں نہیں کوئی آپ کے ماسوا حبیبِ خدا کوئی ہرگز نہیں، نہیں کوئی
رہے پیشِ نظر ہر دم مدینہ تونگر ہوں نہاں سینے میں میرے ظفرؔ عشقِ نبی کا ہے خزینہ
یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے
ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہگزر رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا
کہ سر پر دستِ شفقت آپ کا ہے تھی جن کی پشت پر مہرِ نبوت مرے سینے پہ اُن کا نقشِ پا ہے
کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں
کوئی محبوب، محبوبِ خُدا سا بُلایا عرش پر جی بھر کے دیکھا رُخِ محبوب، چہرہ مصطفیٰؐ کا