مجھے موت دے، نہ حیات دے
مرے حوصلے کو ثبات دے مجھے نقدِ جاں کی طلب نہیں مجھے خواہشوں سے نجات دے ترے پاس آیا ہوں دور سے مجھے دیکھنے دے قریب سے مجھے اپنے رخ سے جدا نہ کر مری چشمِ نم کو زکوٰۃ دے مرے دل میں یار بسا ہوا نہ جدا ہوا، نہ خفا ہوا نہ مٹے نگاہ […]