مجھے موت دے، نہ حیات دے

مرے حوصلے کو ثبات دے مجھے نقدِ جاں کی طلب نہیں مجھے خواہشوں سے نجات دے ترے پاس آیا ہوں دور سے مجھے دیکھنے دے قریب سے مجھے اپنے رخ سے جدا نہ کر مری چشمِ نم کو زکوٰۃ دے مرے دل میں یار بسا ہوا نہ جدا ہوا، نہ خفا ہوا نہ مٹے نگاہ […]

مجھے بکھرے بکھرے سے بال یوں بھی پسند ہیں

مجھے ماتمی سے لباس میں نہ ملا کرو مجھے بے وقوف سمجھ رہا ہے مری طرح مری بے دھیانی سے فائدہ جو اُٹھا لیا کسی اُس جہان میں مل کے تجھ سے میں کیا کروں مرے منتشر سے جہان میں مجھے مل کبھی مرے خوش گماں تری چاہتوں کے نثار پر مجھے برملا سی محبتوں […]

لفظ کتنے ہی روانی میں رہے

ہم فقط اپنی جوانی میں رہے دل کہیں اور کہیں ہے دھڑکن کون بے ربط کہانی میں رہے اُس نے تحریر کیا ہی کب تھا ہم فقط اُس کی زبانی میں رہے ٹھوکریں آنکھ میں کھاتے کھاتے دکھ مری آنکھ کے پانی میں رہے میں اکیلا تو نہیں لڑ سکتا اُس سے کہہ دو کہ […]

عدم توازن

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی ہمارے واسطے تو یہ کہنا بھی ممنوع ہے کہ جیسے حالات اب ہیں ویسے پہلے تو نہ تھے …..دنیا ادھر کی ادھر اور ادھر کی ادھر ہو جائے ہمارے حالات پہ چنداں فرق نہ پڑتا ہے نہ پڑے گا ـ ہماری زندگی حادثات سے عبارت ہے […]

ضبط کرنے والے بھی

کیا کمال ہوتے ہیں خواہشوں کے چنگل سے کون بچ کے نکلا ہے دل کو شاد رکھتی ہے بے سبب اداسی بھی بہہ گیا ہے جانے کیوں ضبط میری آنکھوں سے میں جہاں بھی رہتا ہوں بے شمار رہتا ہوں تم اداس رہنے میں کیوں بلا کے ماہر ہو؟ دیکھ تیرا چہرہ بھی خواب میں […]

رُک ہی جاتی کہیں ہَوا، لیکن!

رُک ہی جاتی کہیں ہَوا، لیکن وہ کہیں بھی نہیں رُکا، لیکن جب کوئی درد سانس لیتا ہے مسکراتا ہوں بارہا، لیکن میری آنکھیں نہ دشت ہو جائیں تُو مجھے شوق سے رُلا، لیکن کب تلک یوں فریب کھائیں گے؟ اُس کا چہرہ ہے دلربا، لیکن زینؔ اُس کو، وفا شناسی پر شوق سے آئینہ […]