محبت کی خدا نے ابتدا کی، محبت آپ سے بے انتہا کی

محبت منفرد، ممتاز یکتا، خدائے مصطفیٰ سے مصطفیٰ کی خدا نے عرش پر اُن کو بلایا جو ناممکن تھا ممکن کر دکھایا درود اُن کو سلام اُن کو سُنایا، بڑھائی شان اور عزت عطا کی

مجھے پائمال تو کر کبھی

مجھے یوں نڈھال تو کر کبھی مجھے روزوشب کی سزا نہ دے مرا کچھ خیال تو کر کبھی تری بے رُخی کی مثال ہوں مجھے استعمال تو کر کبھی مرا نام لے کے زبان سے مجھے بے مثال تو کر کبھی تجھے زینؔ شوقِ ہجوم ہے؟ ذرا انتقال تو کر کبھی