محبت کی خدا نے ابتدا کی، محبت آپ سے بے انتہا کی
محبت منفرد، ممتاز یکتا، خدائے مصطفیٰ سے مصطفیٰ کی خدا نے عرش پر اُن کو بلایا جو ناممکن تھا ممکن کر دکھایا درود اُن کو سلام اُن کو سُنایا، بڑھائی شان اور عزت عطا کی
معلیٰ
محبت منفرد، ممتاز یکتا، خدائے مصطفیٰ سے مصطفیٰ کی خدا نے عرش پر اُن کو بلایا جو ناممکن تھا ممکن کر دکھایا درود اُن کو سلام اُن کو سُنایا، بڑھائی شان اور عزت عطا کی
مرے سر پر سدا رحمت خدا کی درِ سرکار کا دربان ہے تُو ہے خوش بختی ظفرؔ تجھ سے گدا کی
مؤدت موجزن خیر الوریٰؐ کی عطاء اللہ کی، عشق محمدؐ عنایت ہے خدا و مصطفیٰؐ کی
مجھے یوں نڈھال تو کر کبھی مجھے روزوشب کی سزا نہ دے مرا کچھ خیال تو کر کبھی تری بے رُخی کی مثال ہوں مجھے استعمال تو کر کبھی مرا نام لے کے زبان سے مجھے بے مثال تو کر کبھی تجھے زینؔ شوقِ ہجوم ہے؟ ذرا انتقال تو کر کبھی
فیضِ چــارہ گــر کہیٔے ، یا عنایتِ قاتل ساری عُمر زخموں کو آنسوؤں سے دھوئے ہیں ظُلمت کے دامن سے صبح نـو جنم لے گـی زیست لیکے اُٹھیں گے زہر کھا کے سوئے ہیں
عجب ملبوس ہے ہم وحشیوں کا رختِ عریانی گریباں ہے، نہ پردہ ہے، نہ دامن ہے، نہ چولی ہے
میں پریشان حال آیا ہوں ہیں مجسم عطا مرے آقا میں مجسم سوال آیا ہوں
میں ہوں انجان کچھ خبر دے دیں کیا عجب یارِ غار کا صدقہ وہ تجھے آگہی ظفرؔ دے دیں
زلف برہم، عرق آلود جبیں، دامن چاک کس کے آغوش سے تُو جان چھڑا کر نکلا
بستیاں بستیوں میں رہتی ہیں پستیاں پستیوں میں رہتی ہیں حسرتیں حسرتوں میں رہتی ہیں ہستیاں ہستیوں میں رہتی ہیں کون ڈوبا ہے کب کسے پرواہ مستیاں مستیوں میں رہتی ہیں