چلے آؤ چھپا لوں میں تمھیں دامن دریدہ میں
پرائی چادروں سے تن کا پردہ ہو نھیں سکتا
معلیٰ
پرائی چادروں سے تن کا پردہ ہو نھیں سکتا
وہی سب رہبروں کے راہبر ہیں وہی جود و سخا کا اِک سمندر بنے جن کے گدا گنجِ شکر ہیں
خدا کا فضل اُن پر مہرباں ساری خدائی ہے غلامِ مصطفیٰؐ ہوں میں، گرفتارِ محبت ہوں ظفرؔ اِس خوبصورت قید پر قرباں رہائی ہے
جمال نُور سے معمُور رہنا کتاب اللہ، سنت مصطفیٰ کی قیامت تک ہے یہ منشور رہنا
ہیں آپ عطاؤں کے سمندر شہِ والا دیتے ہیں حیات آپ نئی مُردہ دلوں کو دُکھیاروں کے ہیں آپ مبشر شہِ والا
مجھ کو اب تک آپ کا دامن چھڑانا یاد ہے
نبیؐ میرے امام الانبیاء ہیں سراپا روشنی نورِ مجسم وہی شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ ہیں
درِسرکارؐ پر آئے شفا ہو وہی تقدیرِ اِنساں امرِ ربیّ ظفرؔ جو بھی رضائے مصطفیٰؐ ہو
مری جاں کا سرُور صلِ علیٰ دل کی بستی میں جلوہ فرما ہیں مرے آقا حضور صلِ علیٰ
محبوب مرا کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے ہے سایہ کناں کون بھلا ننگے سروں پر رحمت کی رِدا کون بھلا اُن کے سوا ہے