ذکرِ خیر الانام سُوجھے گا
لمحہ لمحہ، مدام سُوجھے گا لبِ لرزیدہ، چشمِ اشک افشاں یوں دُرود و سلام سُوجھے گا
معلیٰ
لمحہ لمحہ، مدام سُوجھے گا لبِ لرزیدہ، چشمِ اشک افشاں یوں دُرود و سلام سُوجھے گا
تم نے آخر کیوں بنا رکھا ہے دیوانہ مجھے
سکوں پایا قرار آیا ہے تب سے خدا کا پیار مانگیں مصطفیٰ سے ظفرؔ عشقِ محمد اپنے رب سے
دل میں یادِ نبی سمائی ہو ہے دُعائے ظفرؔ کہ ہر لمحہ ارفع تر شانِ مصطفائی ہو
مرے دل میں نبی کی یاد رکھنا عطا کرنا مجھے عشق محمد محبت کا نگر آباد رکھنا
دردِ دل مانگنا، چشمِ تر مانگنا مانگنا عجز سے سوز سے درد سے دیں گے خیرات خیر البشر مانگنا
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہونگے اے فلک مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی أچھی لگی
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
تجھے محسوس کرنے کے لیے میں نے ہزاروں کام چھوڑے ہیں نہ جانے پھر بھی کیوں مجھ کو لگا یہ سب خسارہ ہے مجھے تیری محبت ڈھونگ لگتی ہے ترے وعدے بھی لگتا ہے کہ اک صدیوں پرانا خط کسی شوکیس میں رکھا اُٹھاؤں دھول مٹی صاف کر کے کھولنے بیٹھوں لفافے سے نکالوں اور […]
میں درباں ہوں درِ خیر الوریٰ کا غلام اُن کا ہوں میں روزِ ازل سے اُنہیں کا نام لیوا ہوں سدا کا