جب ثنائے پاک میں ہوتا ہوں گرمِ جستجو

منصرف رکھتا ہوں دل کو از جہانِ چار سو ایک بحرِ بیکراں وہ میں ذرا سی آبجو لکھ نہیں سکتا ہوں مدحت میں بقدرِ آرزو نرم خو، سنجیدہ فطرت، خوش جبیں، آئینہ رو طرفہ سیرت، خوش ادا، شیریں کلام و خوش گلو ربِ دو عالم نے خود توصیف فرما دی ہو جب خلقِ پاکیزہ پہ […]

جب تک مری زبانِ شگفتہ بیاں رہے

نغمہ طرازِ نعتِ شہِ دوجہاں رہے رحمت خدائے پاک کی سایہ کناں رہے کیا خوب جتنی دیر بھی ان کا بیاں رہے ہر چند ہم بہ زمرۂ آوارگاں رہے پھر بھی اسیرِ الفتِ شاہِ شہاں رہے یادِ حبیبِ پاک جو جلوہ فشاں رہے قندیلِ نور قلب مرا بے گماں رہے جب تک نظر فروز گل […]

ثنائے پاکِ نبی کا لکھنا ہے ایک کار نگینہ کاری

نہیں ہے لکھنے کا مجھ کو یارا پہ لکھ رہا ہوں ز لطفِ باری عجب نہیں ہے کہ روز محشر یہ کار خوبِ ثنا نگاری ہماری فرد عمل سے دھو دے گناہ سارے خطائیں ساری بلند سیرت ہے شکل پیاری کہ جو بھی دیکھے وہ جائے واری دراز گیسو کے زیر سایہ سکوں بہ دل […]

ثنا گوئے پیمبر ہوں ثنا لکھتا ہوں میں اکثر

نبی کی نعت ہی میرے تصور کا ہے اب محور گروہِ انبیاء میں ہے بلا شک افضل و برتر اسی کے حق میں ہے رب کی عطائے خاص ‘ الکوثر ‘ ہے اتنا خوبیوں والا نبی محتشم اپنا کہ خود توصیف میں رطب اللّساں ہے خالقِ اکبر وہ رحمت بن کے آئے اہلِ عالم کے […]

تیری ثنا میں جس قدر دنیا شکر زباں ہوئی

حق میں کسی نبی کے وہ رطب اللّساں کہاں ہوئی تیرے قدومِ میمنت کی ہیں شہا یہ برکتیں وادی ریگ زار وہ وادی گل فشاں ہوئی تیری اذانِ پُر اثر وحدہٗ لا شریکَ لہٗ پہنچی ہے چار دانگ میں مسموعِ کُل جہاں ہوئی تجھ سے فروغ پا گیا دینِ خدائے ذوالجلال مکر و فسادِ دشمناں […]

تھا سکوں نا آشنا جو دل اسے اب چین ہے

جب سے مصروفِ ثنائے سرورِ کونین ہے آمنہ بی کا جگر گوشہ ہے نورِ عین ہے جانِ عبد اللہ، جدِّ امجدِ حسنین ہے عرش کا تارا وہ سب کا قرۃ عینین ہے بندۂ محبوبِ یزداں ہے شہِ کونین ہے وہ شہنشاہِ ہدیٰ ہے ہادی نجدین ہے قبلۂ اہلِ جہاں ہے کعبۂ دارین ہے اس کی […]

تصور منتہی ہو جائے جس پر رنگ و نکہت کا

وہ دلکش پھول ہے تو ہی گلستانِ نبوت کا نمونہ حُسنِ سیرت کا، مُرقّع حُسنِ صورت کا وجودِ پاک ہے شہکارِ نادر دستِ قدرت کا وہ چشمہ نورِ عرفاں کا خزینہ علم و حکمت کا کھلا مخزن پئے دنیا گہر ہائے حقیقت کا دیا تاجِ شرف انساں کو بخشا تخت عزت کا زمانہ سے مٹایا […]

بہر صورت میں مشغولِ ثنائے یار ہو جاؤں

کہ اس حسنِ عمل سے خلد کا حقدار ہو جاؤں رسائے بارگاہِ سیدِ ابرار ہو جاؤں تمنّا ہے کہ میں لذّت کشِ دیدار ہو جاؤں ذرا پہنچوں سہی اس بارگاہِ ناز تک میں پھر خیالِ واپسی سے برسرِ پیکا رہو جاؤں خوشا پامالیاں میری زہے خوش طالعی میری جو میں پیوندِ خاکِ کوچۂ دلدار ہو […]

بھٹک رہا تھا زمانہ درِ خدا نہ ملا

شہِ مدینہ کا جب تک نہ آستانہ ملا خرد کو علم سے نکتہ یہ عارفانہ ملا اُسے خدا نہ ملا جس کو مصطفیٰ نہ ملا ہماری زمزمہ سنجی کو اک ترانہ ملا ہماری روح کی تسکیں کو پنجگانہ ملا فلاحِ زیست کو اک دین عادلانہ ملا رسولِ پاک کے صدقہ میں ہم کو کیا نہ […]

اے ہستی پاکِ کون و مکاں تو روحِ روانِ ہستی ہے

دنیا ہے یہ تیری منت کش تو ہے تو یہ بستی بستی ہے وحدت کے خمستاں سے تیرے اک بار ہوا جو ساغر کش تا حشر نہ اتری مستی پھر کچھ ایسے غضب کی مستی ہے ہے تیری طلب ہی جانِ طلب اس کار گہِ دو روزہ میں وہ آرزو تیری آرزو ہے جو سب […]