تازہ خیال میں ہوں قُباؔ اور قبلتینؔ

جب رو برو ہو مسجدِ میقات اے خدا جمعہؔ، اجاجہؔ، رایہؔ، غمامہؔ، سی مسجدیں مجھ کو عطا کریں نئی راحات اے خدا سیراب قلب و جاں ہوں سرِ وادئ عقیق نکلیں تمام قلب کی حسرات اے خدا کہفِ بنی حرام کے آثار ڈھونڈتے خندق کے روبرو ہوں نشانات اے خدا کہفِ بنی حرام کے آثار […]

بھٹکے ہیں بہت رہگذرِ نور سے ہٹ کر

کھو بیٹھے ہیں توقیر، تیری ذات سے کٹ کر حال اپنا ہے تیرے کرمِ خاص کا محتاج -اے صاحبِ معراج صد شکر! نگاہوں میں فقط اب ترا در ہے پستی کے مکینوں کی بلندی پہ نظر ہے واماندہء منزل کی ترے ہاتھ میں ہے لاج – اے صاحبِ معراج دنیا نمودار ہو پھر صبحِ سعادت […]

اے مسلمانو مبارک ہو نویدِ فتح یاب

لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب وہ اٹھے تاریکیوں کے بامِ گردوں سے حجاب وہ عرب کے مطلعِ روشن سے ابھرا آفتاب گم ضیائے صبح میں‌شب کا اندھیرا ہوگیا وہ کلی چٹکی ، کرن پھوٹی سویرا ہوگیا خسروَ خاور نے پہنچا دیں شعائیں دور دور دل کھلے شاخیں ہلیں ، شبنم اڑی […]

اے سرورِ دیںً نور ہے یکسر تری سیرت

اقدار کو کرتی ہے منور تری سیرت یا خیر کا معمورہِ پُر نور و معنبر یا حسن کا مواج سمندر تری سیرت زیبائی افکار کا مصدر ترے انوار رعنائیِ کردار کا جوہر تری سیرت رنگیں چمنستانِ حیات ا س کی ضیاء سے نوریں صفتِ چشمہِ خاور تری سیرت ہر بندہِ نادار کی قوت تری رحمت […]

اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ

ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروفِ عبادت دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید صدقے […]

اللہ اللہ کیا سفر کیا روح پرور خواب تھا

فرشِ ریگِ راہِ طیبہ بسترِ سنجاب تھا نطقِ جاں شیرینیء مدحت سے لذت یاب تھا یہ کتابِ زندگی کا اک درخشاں باب تھا ارضِ طیبہ پر قدم تو کیا ، نظر جمتی نہ تھی "​ذرہ ذرہ روکشِ خورشیدِ عالم تاب تھا "​ بن گیا اشکِ ندامت میری بخشش کا سبب بربطِ امید کب سے تشنہء […]

ادراک کی حد میں ہے نہ محدودِ گماں ہے

محسوس کرے کوئی تو رگ رگ میں رواں ہے ہاتھوں میں کسی کے تو عناصر کی عناں ہے کیا خود ہی رواں قافلہء عمرِ رواں ہے قائم ہے یہ پانی پہ زمیں کس کے سہارے یہ زیرِ اثر کس کے جہانِ گزراں ہے ہے کوہِ گراں کس کی جلالت کی نشانی یہ جلوہء گل کس […]

اجنبی ملاقات

عمر کے تسلسل میں جب ہم نے تجربے کے کئی میدان عبور کر لئے تو آج دل چاہا زندگی کے سفر میں ذرا رُکا جائے اور ان پر نظر ڈالی جو سمے سے بھاؤ میں نہ جانے کہاں بہہ گئے ہیں جن کی یادیں سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلی جارہی ہیں  میں بے […]