سرکار کی یادوں کا دریچہ جو کھُلا ہو
دل فرطِ مسرت سے مرا غارِ حرا ہو ہر لمحہ میں ہر سمت جھلک آپ کی دیکھوں ہو مجھ پہ کرم آپ کا مجھ پر یہ عطا ہو
معلیٰ
دل فرطِ مسرت سے مرا غارِ حرا ہو ہر لمحہ میں ہر سمت جھلک آپ کی دیکھوں ہو مجھ پہ کرم آپ کا مجھ پر یہ عطا ہو
دل کے ارمان سب نکلتے ہیں سر درِ مصطفیٰ پہ رکھ کے ظفرؔ ہم رگِ جاں میں نُور بھرتے ہیں
دامانِ کرم میں مجھے مستور کیا ہے سرکار نے بُلوایا ہے صدیق ظفرؔ کو
آپ کے ہم گدا حبیبِ خدا آپ آئیں نظر ظفرؔ ہر سُو مجھ کو جلوہ نما، حبیبِ خدا
ہم مُسلسل مدام کرتے ہیں اپنے عشاق کو حضور اکثر خواب میں ہم کلام کرتے ہیں
ذکرِ خیر الانامؐ کرتے ہیں اُنؐ پہ بھیجے دُرود ربِّ کریم اور ملائک سلام کرتے ہیں
زندگی میں نکھار آپ سے ہے مرے دل کے مہکتے گلشن میں رنگ و بُو، برگ و بار آپ سے ہے
عشق اُن کا ہے اُن کی چاہت ہے میں ظفرؔ اُن کے در کا درباں ہوں مری کتنی کمال قسمت ہے
مجھے ساری خُدائی مل گئی ہے جو پہنچے آپ تک اُن کو یقیناً خدا تک رہنمائی مل گئی ہے
حبیبِ کبریاؐ و رحمۃ اللعالمین آقاؐ تمہیں شافع محشر ہو شفیع المذنبیں آقاؐ نہ اُٹھے گی ظفرؔ کی آپؐ کے در سے جبیں آقاؐ