حبیبِ کبریا سایہ کُناں ہو
تو مجھ سا بے زباں معجز بیاں ہو میں لکھوں نعت محبوبِ خدا کی تو دُوری میں حضوری کا سماں ہو
معلیٰ
تو مجھ سا بے زباں معجز بیاں ہو میں لکھوں نعت محبوبِ خدا کی تو دُوری میں حضوری کا سماں ہو
نعت لکھنے کی آس ہوتی ہے نعت کے شعر جب میں لکھتا ہوں روشنی آس پاس ہوتی ہے
پھول کھِلتے ہیں دیپ جلتے ہیں مرا سرمایہ ہیں وہ آنسو جو نعت کہتے ہوئے برستے ہیں
نہیں ہے چاہ کوئی جاہ و حشمت، کروفر کی یہی گریہ و زاری ہے ظفرؔ مسکیں گداگر کی درِ حضرت پہ مل جائے جگہ اُس کو سگِ در کی
اُن کی راہوں میں کہکشاں دیکھوں اُن کے قدموں میں آسماں دیکھوں سب جہانوں میں سب زمانوں میں عظمتِ مصطفیٰ عیاں دیکھوں
خود کو حفظ و امان میں رکھنا دیکھ کر خواب میں رُخ زیبا دیدہ و دِل میں جان میں رکھنا
شبِ معراج قربت کی مُودت کی کہانی ہے ہوا نازل کلامِ کبریا محبوبِ یزداں پر مری سرکار کا منصب خدا کی ترجمانی ہے
آپ کی نعت ہی سُنوں آقا ایک لمحہ نہ یوں مرا گزرے آپ کی یاد بِن جیوں آقا
فیض کا بحر بیکراں دیکھوں وہ جو محبوبِ کبریا ہیں ظفرؔ اُن کو قرآں کا ترجماں دیکھوں
آپؐ کا منشور قرآں، سیرتِ اطہر نظام خطبۂ حج وِداع مینارۂ نور و ضیاء روشنی ہی روشنی پھیلا رہا ہے صبح و شام