کہاں میں اور کہاں اُن کی ثنائیں
کرم اُن کا ہے یہ اُن کی عطائیں میں جب بھی نعتیہ اشعار لکھوں سُنائی دیں مجھے غیبی صدائیں
معلیٰ
کرم اُن کا ہے یہ اُن کی عطائیں میں جب بھی نعتیہ اشعار لکھوں سُنائی دیں مجھے غیبی صدائیں
وہ مقام ارفع وہ عظمت آپؐ کی ساری دُنیا کے لیے راہِ نجات ہے اگر تو ہے اطاعت آپؐ کی
مجھے اپنا ہی خادم اپنے ہی در کا گدا رکھنا جُدائی روح فرسا اور دُوری جان لیوا ہے مجھے قدموں میں اپنے ہی مرے آقا بُلا رکھنا
دُور رہ کر بھی ہوں مدینے میں آپ دِل میں نہ گر سمائے ہوں لُطف کیا خاک ایسے جینے میں
ذکرِ خیر الانام کرتے ہیں نعت سرکار خود لکھاتے ہیں ہم تو بس اہتمام کرتے ہیں
روح و جاں کی ندا، حبیبِ خدا مرے ماں باپ بھائی اور بچے آپ ہی پر فِدا حبیبِ خدا
مری سرکار کے سب معجزے واضح عیاں بھی کبھی مُٹھی میں کنکر خودبخود ہیں بول اُٹھتے کبھی منبر کی چوبِ خشک کرتی ہے فغاں بھی
حبیبِ کبریا پیشِ نظر ہیں وہی تو رحمۃ اللعالمیں ہیں شفاعت کے وہی پیغام بر ہیں
آپ کی شان سب سے اعلیٰ ہے آپ ممتاز منفرد یکتا میں نے تاریخ کو کھنگالا ہے
قلب دیوانہ وار مانگے ہے آپؐ بن مانگے پیار دیتے ہیں کیوں ظفرؔ بار بار مانگے ہے