ہوگی کب خدمت سرکار میں میری طلبی

یا نبی میرے نبی ! میرے نبی! میرے نبی کب رسائی مجھے دریائے کرم تک ہو گی دشت در دشت بھکٹتی ہے مری تشنہ لبی سبقت جو دو کرم نے مجھے مہلت ہی نا دی رہ گئی میری گزارش مرے کونٹوں میں دبی در گہ عدل میں یکساں ہیں شہنشاہ و فقیر نہ یہاں فرق […]

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

نگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہے تو اے بہار گریزاں کسی چمن میں رہے مرے جنوں کی مہک تیرے پیرہن میں رہے مجھے نہیں کسی اسلوب شاعری کی تلاش تری نگاہ کا جادو مرے سخن میں رہے نہ ہم قفس میں رکے مثل بوئے گل صیاد نہ ہم مثال صبا حلقۂ رسن میں […]

کھل اٹھا رنگ چمن پھولوں کو رعنائی ملی

عکس روئے مصطفیٰ سے ایسی زیبائی ملی کھل اٹھا رنگ چمن پھولوں کو رعنائی ملی سبز گنبد کے مناظر دیکھتا رہتا ہوں میں عشق میں چشم تصور کو وہ گیرائی ملی جس طرف اٹھی نگاہیں محفل کونین میں رحمتہ للعالمین کی جلوہ فرمائی ملی بہر پا بوسی پہنچ جائیں حریم پاک تک یوں ہمارے منتظر […]

جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی مری اوقات نہیں

یہ تو کرم ہے ان کا ورنہ مجھ میں تو ایسی بات نہیں تو بھی وہیں پہ جا جس در پہ سب کی بگڑی بنتی ہے ایک تیری تقدیر بنانا ان کے لیے کچھ بات نہیں عشق شہ بطحا سے پہلے مفلس و خستہ حال تھا میں نام محمد کے قرباں اب وہ مرے حالات […]

وہ لہجہ وہ خلوص وہ انداز وہ خطاب

اس صاحب کتاب کا ہر لفظ اک کتاب امی تھا اور اس نے عمل کی دلیل سے ترتیب دے دیا ہے ہر اک دور کا نصاب وہ ہے تو سارا عالم امکاں ہے معتبر اس کے بغیر عالم موجود بھی سراب یہ عرش و فرش دیدۂ حیراں ہیں آج بھی پیدا نہ ہوگا اب کبھی […]

وہ لطف رنگ سحاب بھی ہے نسیم رحمت ماب بھی ہے

رسولوں میں انتخاب بھی ہے زمیں پہ گردوں کا رکاب بھی ہے رفیق بھی ہے خلیق بھی ہے آشنائے رمز طریق بھی ہے وہ ایک بحر عمیق بھی ہے بشر فرشتہ جناب بھی ہے وہ پیکر نور ہے مجسم وہ راز عرفان حق کا محرم وہ عاجزوں بیکسوں کا ہمدم وہ اک جلالت ماب بھی […]