فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں

خود اُنھی کو پُکاریں گے ہم دُور سے ، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا ، بندگی کا قرینہ بدل جائے گا سر جُھکانے کی فُرصت ملے گی کِسے ، خُود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں […]

عابد ہے ایک وصف یہی مجھ میں کام کا

ہوں نعت گو حضور علیہ السلام کا مجھ پر خدائے پاک کا احساں ہے کس قدر لب پر ہے درد شام و سحر ان کے نام کا اس پر سلام لاکھوں تکالیف سہ کے جو لایا نہیں خیال کبھی انتقام کا ممنون اس کے لطف و کرم کی ہے کائنات ہر شے میں نور ہے […]

جو فردوس تصور ہیں وہ منظر یاد آتے ہیں

مدینے کے گلی کوچے برابر یاد آتے ہیں جو لگتا ہے کوئی کنکر بدن پر دین کی خاطر دل کو وادی طائف کے پتھر یاد آتے ہیں فضاؤں میں اگر کوئی پرندہ رقص کرتا ہے تو آنکھوں کو مدینے کے کبوتر یاد آتے ہیں مراتب پائے ہیں کیا کیا تری نسبت سے ذرّوں نے ابوبکرؓ […]

جس نے سمجھا عشق محبوب خدا کیا چیز ہے

وہ سمجھتا ہے دعا کیا، مدعا کیا چیز ہے کوئی کیا جانے کہ شہر مصطفی کیا چیز ہے پوچھئے ہم سے مدینے کی ہوا کیا چیز ہے شافع محشر کے دامن میں چھپا بیٹھا ہوں میں کیا خبر ہنگامہ روز جزا کیا چیز ہے ہر مرض میں خاک راہ مصطفیٰ ہے کارگر سامنے اکسیر کے […]

بلاد عشق کی ہر رہگذر میں رہتے ہیں

سفر کا کیا ہے ازل سے سفر میں رہتے ہیں ہتھیلیوں پہ سجا کر چراغ وصف نبی ہوا کے ساتھ ہمیں بحر و بر میں رہتے ہیں ہیں طواف گنبد خضرا میں عمر کٹ جائے عجیب شوق مرے بال و پر میں رہتے ہیں یہی نجات کا باعث بنیں گے محشر میں جو آبگینے مری […]

اے ختم رسل ، رحمت کل ، صاحب اخلاق

ہیں زیر نگیں آپ کے اب انفس و آفاق فرمائی ہے تقدیر امم آپ نے روشن شاہد مرے دعویٰ پہ ہیں تاریخ کے اوراق معراج کی شب عظمت انساں کی علامت خالق بھی ہوا ان کی ملاقات کا مشتاق جس آب میں ڈالا ہے لعاب دہن پاک وہ آب ہوا کوثر و تسنیم کے صداق […]

اضطراب شوق بے حد میں کہیں رہتا ہے وہ

کائنات روح احمد میں کہیں رہتا ہے وہ دائرہ در دائرہ صدیاں بلاتی ہیں اسے سچی آوازوں کے گنبد میں کہیں رہتا ہے وہ یاد آتا ہے مصیبت میں دعاؤں کی طرح شہر کے ویران معبد میں کہیں رہتا ہے وہ خاک میں گھلتا لہو ہے منتظر اس کے لیے سرخرو ہونے کے مقصد میں […]

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا

کہیں ہم نے پتا پایا نہ ہر گز آج تک تیرا صفات و ذات میں یکتا ہے تو اے واحدِ مطلق نہ کوئی تیرا ثانی ہے نہ کوئی مشترک تیرا جمال ِ احمد و یوسف کو رونق تو نے بخشی ہے ملاحت تجھ سے شیریں ، حسن ِ شیریں میں نمک تیرا تیرے فیض کرم […]

یا محمد یا محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی

آیتوں سے ملاتا رہا آیتیں پھر جو دیکھا تو نعت نبی بن گئی کون ہے جو طلب گار جنت نہیں یہ بھی مانا کہ جنت ہے باغ حسیں حسن جنت کو جب بھی سمیٹا گیا مصطفیٰ کے نگر کی گلی بن گئی جتنے آنسو بہے میرے سرکار کے سب کے سب ابر رحمت کے چھینٹے […]