یوں تو ہر اک پھول میں تھا رنگِ رخسارِ چمن
اک گلابِ ہاشمی ہے صرف شہکارِ چمن آپ کی مرضی جسے چاہیں مدینے میں بلائیں یعنی ہر غنچہ نہیں ہوتا سزاوارِ چمن حلقہء خوابِ نظر ہے سبز گنبد کا خیال "سرو ہے باوصفِ آزادی گرفتارِ چمن " ہے تصور میں مدینے کی گلاب افشاں بہار میرے دروازے تک آپہنچی ہے […]