زندگی مختصر ملی تھی ہمیں
حسرتیں بے شمار لے کے چلے
معلیٰ
حسرتیں بے شمار لے کے چلے
زندگی دیکھ تری خاص رعایت ہوگی اک محبت ہے مرے پاس اگر کرنے دے
اعظمؔ اس غم کا خریدار ہے کوئی کوئی
درد و آزار سہی جبر سہی غم ہی سہی
زندگی تم سے عبارت ہے میری جاں لیکن پھر بھی حسرت ہے یہی ذکر تمھارا کر لیں
میں جانتی تھی مرے خود پسند شہزادے
موجۂ ہجر نے پکڑی جو کلائی صاحب ہو نہ ہو یہ کسی دشمن کا کِیا لگتا ہے ورنہ مقتل تو سجاتے نہیں بھائی ، صاحب اپنی سوچوں کو بدلنے سے سماں بدلے گا ٹھہرے پانی پہ تو جم جاتی ہے کائی صاحب تھا ہُنر میرا کہ محفوظ رکھا آئینہ ورنہ لمحوں نے بہت دھول اُڑائی […]
فیصلہ فرقت کا اب آسان تو ہونا نہیں سوچتی ہوں دل وہاں کیسے لگے گا دوستا باغ جنت میں کوئی ملتان تو ہونا نہیں
کچھ ایسی ہی ہماری زندگی ہے
تیری خاطر کیا کیا سیکھا تجھ کو کھونے والوں نے ایک طلسمی سرگوشی پر میں نے مڑ کر دیکھا تھا مجھ کو پتھر ہوتے دیکھا پتھر ہونے والوں نے اچھے کی امید پہ کتنے مشکل دن کٹ جاتے ہیں خواب محل کے دیکھے اکثر خاک پہ سونے والوں نے کتنی ماوں نے بچوں کو باتوں […]