جس وچ اک اک ساہ لگ جاوے
ربا ! عشق نوں پھاہ لگ جاوے
معلیٰ
ربا ! عشق نوں پھاہ لگ جاوے
خدا کا واسطہ دے کر وہ جب جانے نہیں دیتا
کل تک تو ترے ہاتھ میں کشکول رہا ہے
چھاؤں میں آکر میں نے پرچھائیں کو ناراض کیا آج وہ کافر مشرک کہہ کر چھوڑ کے جانے والا ہے میں نے جس کے عشق میں اللہ سائیں کو ناراض کیا
تجھے خبر ہی نہیں درد مند شہزادے
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
باغ میں کس قدر اداسی ہے
یہ آپ نہیں شجرہ نسب بول رہا ہے
آج تک اپنی رفاقت نہ میسر آئی
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے