چھوڑیے یہ ودیشی پہناوے
آپ کرتے میں سج رہے ہیں جناب کیا یہ سرگوشی آپ کی نہیں ہے ؟ کیا مرے کان بج رہے ہیں جناب ؟
معلیٰ
آپ کرتے میں سج رہے ہیں جناب کیا یہ سرگوشی آپ کی نہیں ہے ؟ کیا مرے کان بج رہے ہیں جناب ؟
میں نے پروین کی انکار وہاں رکھ دی ہے
دکھ کے منظر طویل ہوتے تھے ہجر چابک تھا پشت پہ پڑتا اور چابک میں کیل ہوتے تھے لالیاں کھا گیا مری یہ دکھ کب یوں آنکھوں میں نیل ہوتے تھے منزلوں کا پتہ دیا اس کو ہم فقط سنگ میل ہوتے تھے خواہشیں تھیں کثیر بچوں کی اور وسائل قلیل ہوتے تھے دل تو […]
اس دل کی عداوت کو ابھی آگ لگادوں جو مفت میں یہ رنج و الم بانٹ رہا ہے اس شہرِ سخاوت کو ابھی آگ لگادوں شیرینیء گفتار کے پیچھے ہے بہت کچھ لہجے کی حلاوت کو ابھی آگ لگادوں آیا ہے مجھے کارڈ تری رسم- حنا کا اس ہجر کی دعوت کو ابھی آگ لگا […]
جس نجومی کو دکھایا ہے وہی ایک جواب وہ مقدر کا ستارہ ہے نہ ہو سکتا ہے پوری دنیا بھلے پاؤں میں پڑی ہو لیکن ایک وہ شخص تمہارا ہے نہ ہو سکتا ہے
نجانے مجھ سے کیوں خلق خدا ناراض رہتی ہے کسی نے ان سے پوچھا آجکل کومل کہاں گم ہے؟ بڑا بے زار سا ہو کر کہا " ناراض رہتی ہے "
مرضِ عشق کی شاید ہو پسِ مرگ شفا زندگی میں تو یہ آزار نہیں جانے کا
مر گئے جن کے چاہنے والے اُن حسِینوں کی زندگی کیا ہے ؟
بیرونی طاقتوں کا دباؤ نہیں قبول یہ عشق ہے ، نکاح کی تقریب تو نہیں کیسے کہوں قبول ہے ؟ جاؤ ، نہیں قبول
ذرا ذرا اسے مضبوط کررہی ہوں میں