اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم
معلیٰ
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم
آ عالم حالت دیکھ مری مجھے گنجل گنجل کرڈالا اس عشق کے ظالم سائے نے آسیب نے سب ویران کیا یہ خون رگوں میں ٹھہرا ہے اب دھڑکن رک رک جاتی ہے اب سانسیں تھک کر چور ہوئیں یہ آنکھیں اب بے نور ہوئیں تسبیح کے دانے رولے ہیں سو بار مصلے کھولے ہیں ہر […]
یہ بھی حسؔرت! کوئی تدبیرِ سُکوں ہے، کیا خُوب دِلِ بے تاب سے کہتے ہو، اُنھیں یاد نہ کر
آئے ہیں ہم بھی ہجر کے آزار کاٹ کر کس جرم میں مجھے یہاں چنوا دیا گیا مجھ کو نکالو جسم کی دیوار کاٹ کر
عشق تم سے ہے خسارہ تو خسارہ ہی سہی
تم تو پتھر تھے تمہارے دوست بھی ویسے ہی ہیں
کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیں کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا
گریہ زاروں کی اذیت کا سبب معلوم ہے ؟ مجھ سے بچھڑا ہے تو بولو خوش تو ہے ناں آج کل تم تو اس کے دوست ہو تم کو تو سب معلوم ہے
یعنی تو میرے خواب پہ انگلی اٹھائے گا ؟ اپنی اداسیوں کا مت الزام اس پہ ڈال ہر شخص ماہتاب پہ انگلی اٹھائے گا پھر امتحان عشق کا منکر کہیں گے لوگ تو بھی اگر چناب پہ انگلی اٹھائے گا ایسا اصول مجھ کو ہے ہرگز نہیں قبول اچھا ہے جو ، خراب پہ انگلی […]
ہک درد کھڑوتے ویہڑے وچ کئیں ہنجواں دے ہن ڈیوے جو اکھیاں تے بلدے بجھدے ہن کئیں کالی ہجر دی ڈینڑ کھڑی ہے ، بکل مار ڈریندی ہے کئیں روگ کھڑن دہلیز اتے دروازہ بھن کے آ ویندن میں روز اساراں کندھ اندروں یاجوج بنڑے ڈکھ کھا ویندن میں نت آکھاں ، بھاء لانواں چا […]