پھینکی نہ منور نے بزرگوں کی نشانی
پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی دستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے
معلیٰ
پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی دستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے
میں وہ شاغلؔ ہوں کہ ہیں اہلِ صفا میرے مرید صــــوفیانِ بے ریا سے رنـــدِ مے آشـــام تک
میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا
مرے گمان سے وہ شخص جانے والا ہے جسے میں آئینے میں دیکھتا ہوں اپنی جگہ
قسم وہ میرے سر کی کھا رہی ہے
مجھے اپنا نہیں اس شخص کا دکھ ہے بچھڑ کے مجھ سے جس کی نظمیں اور غزلیں ادھوری رہ گئی ہونگیں
رب عشقِ زلیخا کو یوسف نہ عطا کرتا
مایوس ہو کے لوٹے ہیں ہر اک دکاں سے ہم
باقی تو سب کھیل تماشا ہوتا ہے
رو پڑے اذیت کا حل نکالنے والے