دکھ کسی کو سنا نہ دیتی تو
مر ہی جاتی صدا نہ دیتی تو وہ کسی کا بھی ہوگیا ہوتا میں اگر بددعا نہ دیتی تو
معلیٰ
مر ہی جاتی صدا نہ دیتی تو وہ کسی کا بھی ہوگیا ہوتا میں اگر بددعا نہ دیتی تو
ماری جاوں گی میں اک دن عشق کی پاداش میں تو پہاڑی سخت جاں ،میں لاڈلی اور بدمزاج فرق تو ہونا تھا آخر طرز بود وباش میں آدھا ٹکڑا کھا کے اس نے دے دیا آدھا مجھے کتنا میٹھا بھر گیا تھا سیب کی اس قاش میں میری تاریکی نے یہ باور کرایا ہے مجھے […]
دل کو اچھا ہے کہ اوقات میں رکھا جائے
ایک غریب سے جیسے اک انمول خزینہ چھوٹ گیا آنسو دریا بن کر پھوٹے آنکھوں کے صحراؤں سے ایک قرینہ صبر کا تھا وہ ایک قرینہ چھوٹ گیا میرا منہ کے بل گرنا بھی میری لاپرواہی تھی اک زینے پہ پاؤں رکھا اور اک زینہ چھوٹ گیا وقت ہی تھا ناں کٹ جاتا ہے آخر […]
کوئی ربط تیرے میرے مابین بھی نہ آئے تجھے امتحان دینا بھی پڑے جو عشق والا تو سبق سنانے جائے تجھے عین بھی نہ آئے ہے دعا کہ تجھ پہ ٹوٹے مرے جیسی اک قیامت تجھے موت بھی نہ آئے تجھے چین بھی نہ آئے اسے کیا پڑی کہ لوٹے مری بے بسی کی خاطر […]
ایک دن گفتگو بنا لوں گی اس سے جوڑوں گی منفرد رشتہ اس کی بیٹی ، بہو بنا لوں گی
میرا سر ننگا سہی شان مگر باقی ہے
تجھے بھی آئینے اب تیری حد میں رکھوں گی میں عمر بھر نہیں تذلیل بھولتی اپنی پلٹ کے آیا تو ٹھوکر کی زد میں رکھوں گی
وہ سانپ رینگتے ہوئے چنبیلیوں کی اوٹ میں
بزمِ احباب میں حاصل نہ ہُوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت جب سے الگ بیٹھا ہُوں