خدا کا فیض جاری ہر زماں میں
سمندر کوہ و بن ہر گلستاں میں ہر اک ذی جان ہر روحِ رواں میں قلوبِ زاہداں و عاشقاں میں
معلیٰ
سمندر کوہ و بن ہر گلستاں میں ہر اک ذی جان ہر روحِ رواں میں قلوبِ زاہداں و عاشقاں میں
خدا کا ذکر، ذکرِ دِلرُبا ہے خدا کا ذکر، ذِکر دِلکُشا ہے خدا کا ذکر، ذکرِ جانفزا ہے
خدا میرا مکرم، محتشم ہے خدا کا نام ہی دل میں رقم ہے خدا کی حمد گو ہی چشمِ نم ہے
خدا موجود ہے روحِ رواں میں خدا موجود جسمِ صادقاں میں خدا موجود قلبِ عاشقاں میں
فضاؤں میں، زمین و آسماں میں خدا گویا مؤذن کی اذاں میں خدا موجود قلبِ عاشقاں میں
خدا کا فیض ہے جاری و ساری ظفرؔ ہے زندہ و جاوید جس نے خدا کے نام پر جاں اپنی واری
وبالِ ہجر کب تک سہہ سکو گے وہ سُنتا ہے دُکھی دل کی صدائیں ظفرؔ تم گِڑ گڑا کر کہہ سکو گے
محبت، دل لگی اچھی رہے گی خدا معبود ہے عابد ظفرؔ ہے خدا کی بندگی اچھی رہے گی
سرورِ قلب و جاں تھا ہے نہ ہو گا خدا سا محتشم، ارفع و اکبر کوئی عظمت نشاں تھا ہے نہ ہو گا
وہ خورشید ایک ذرے کو بنائے کرم کر دے مریضِ نیم جاں پر ظفرؔ کے دل کا ایواں بھی سجائے