خدا کے ذکر پر مامور ہوں میں
نشاط و کیف سے معمور ہوں میں بحمد للہ بہت مسرُور ہوں میں ہوں واصل میں، نہیں مہجُور ہوں میں
معلیٰ
نشاط و کیف سے معمور ہوں میں بحمد للہ بہت مسرُور ہوں میں ہوں واصل میں، نہیں مہجُور ہوں میں
خدا کی یاد میں مسرُور دل ہے مرے افکار میں بھی روشنی ہے خدا کے نُور سے معمور دل ہے
بہت مسرُور ہے جانِ حزیں اب بہت ہی مطمئن قلبِ تپاں ہے خدا کے ذکر سے دل کھِل رہے ہیں، دریدہ چاک داماں سِل رہے ہیں خدا کے ذکر کا اعجاز ہے یہ، خزاں دیدہ گلستاں گلفشاں ہے
غم دُنیا سے کوسوں دُور ہوں میں خطائیں وہ ظفرؔ کی ڈھانپتا ہے ہے وہ ستار اور مستور ہوں میں
خدا کو قریۂ جاں میں بسا لو درُود و نعت اللہ کو سُنا لو ظفرؔ سویا نصیبہ یوں جگالو
خدا کی نعمتیں بتلائیں کیسے خدا کی نعمتیں بے انتہا ہیں خدا کی نعمتیں گنوائیں کیسے
خدا کے حمد گو سارے زمانے خدا کے حمد گو عاقل سیانے ظفرؔ جیسے بھی مجذوب و دوانے
بیاں جس میں ہیں اوصافِ حمیدہ خدا کی بارگاہ میں لے کے آیا ظفرؔ ہے سرخمیدہ، آبدیدہ
نظر آتا ہے میرا رب، میں دل میں جھانک لیتا ہوں ظفرؔ جب مضطرب ہوں تب، میں دل میں جھانک لیتا ہوں سوئے کعبہ سدھاریں سب، میں دل میں جھانک لیتا ہوں
خدا عالی مرا، افضل خدا ہے میں گھائل ہوں، مرا ساحل خدا ہے مسافر میں، مری منزل خدا ہے