خدا اکبر، معظم ہے بڑا ہے، خدائے مصطفیٰ میرا خدا ہے

وہ یکتا، منفرد، ربّ العلیٰ ہے، خدائے مصطفیٰ میرا خدا ہے وہ جس نے پیار احمد سے کیا ہے، خدائے مصطفیٰ میرا خدا ہے درُود اکثر ظفرؔ جو بھیجتا ہے، خدائے مصطفیٰ میرا خدا ہے

جلال کِبریا ہر سُو عیاں ہے، بہرِ سُو عظمتوں کی داستاں ہے

خدا کا مرتبہ اللہ اکبر، معظم ہے خدا عظمت نشاں ہے خدا ہی خالقِ کون و مکاں ہے، وہ مخلوقات کا روزی رساں ہے خدا محبوب کی اُمت کا حافظ، کرم فرما، نگہباں، پاسباں ہے

تنِ لاغر اگرچہ مضمحل ہے، خدا کے فضل سے دل تو ہرا ہے

میں متمنی نہیں ہوں مال و زر کا، خدا کے ذکر سے دامن بھرا ہے کہا کس نے کہ میں بے آسرا ہوں، مجھے لطفِ خدا کا آسرا ہے کوئی نہ بال بیکا کر سکے گا، محافظ خود مرا، میرا خدا ہے

اسی کو ترک وفا کا گماں ستانے لگے

اُسی کو ترکِ وفا کا ، گُماں ستانے لگے جسے بھلاؤں تو ، کچھ اور یاد آنے لگے اِسے سنبھال کے رکھو , خزاں میں لَو دے گی یہ خاکِ لالہ و گُل ھے , کہیں ٹھکانے لگے تجھے میں اپنی مُحبت سے , ھٹ کے دیکھ سکوں یہاں تک آنے میں مجھ کو , […]