خدا بے آسروں کو خود سنبھالے
خدا گرتے ہوؤں کو خود اُٹھا لے خدا انساں کو مشکل میں نہ ڈالے خدا کر دے اندھیروں میں اُجالے
معلیٰ
خدا گرتے ہوؤں کو خود اُٹھا لے خدا انساں کو مشکل میں نہ ڈالے خدا کر دے اندھیروں میں اُجالے
وہ یکتا، منفرد، ربّ العلیٰ ہے، خدائے مصطفیٰ میرا خدا ہے وہ جس نے پیار احمد سے کیا ہے، خدائے مصطفیٰ میرا خدا ہے درُود اکثر ظفرؔ جو بھیجتا ہے، خدائے مصطفیٰ میرا خدا ہے
خدا کا مرتبہ اللہ اکبر، معظم ہے خدا عظمت نشاں ہے خدا ہی خالقِ کون و مکاں ہے، وہ مخلوقات کا روزی رساں ہے خدا محبوب کی اُمت کا حافظ، کرم فرما، نگہباں، پاسباں ہے
میں متمنی نہیں ہوں مال و زر کا، خدا کے ذکر سے دامن بھرا ہے کہا کس نے کہ میں بے آسرا ہوں، مجھے لطفِ خدا کا آسرا ہے کوئی نہ بال بیکا کر سکے گا، محافظ خود مرا، میرا خدا ہے
انصاف ظالموں کی حمایت میں جائے گا یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائے گا دستار نوچ ناچ کے احباب لے اُڑے سر بچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائے گا
اُسی کو ترکِ وفا کا ، گُماں ستانے لگے جسے بھلاؤں تو ، کچھ اور یاد آنے لگے اِسے سنبھال کے رکھو , خزاں میں لَو دے گی یہ خاکِ لالہ و گُل ھے , کہیں ٹھکانے لگے تجھے میں اپنی مُحبت سے , ھٹ کے دیکھ سکوں یہاں تک آنے میں مجھ کو , […]
زندگی شہر میں ہوگی کہیں دو چار کے پاس
وہ بحر بے کراں لطف و کرم کا وہ ہے کوہِ گراں لطف و کرم کا ظفرؔ وہ ہے جہاں لطف و کرم کا
اِرادوں کو بھی وہ پہچانتا ہے خدا اُس کو بھی پہنچاتا ہے روزی خدا کو جو خدا نہ مانتا ہے
خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا مجھے سرکار کا درباں بنایا محبت میرے دل میں اپنی ڈالی درِ محبوب پر مجھ کو بٹھایا