خدایا اِک ترا مسکین بندہ
پریشان و حزیں غمگین بندہ بسانا تجھ کو چاہے قلب و جاں میں ظفرؔ سا درخورِ نفرین بندہ
معلیٰ
پریشان و حزیں غمگین بندہ بسانا تجھ کو چاہے قلب و جاں میں ظفرؔ سا درخورِ نفرین بندہ
خداوندِ زماں آقا و مولا خدائے اِنس و جاں آقا و مولا خدائے بیکساں آقا و مولا
مجھے سوزِ نہاں، جذبِ درُوں دے مجھے اپنی طلب، اپنا جنوں دے حبیب اللہ کا عشقِ فزوں دے
تہی دستاں، فقیراں کم نصیباں قلمکاراں، حکیماں و طبیباں رضا جویاں، ثناء گویاں، خطیباں
سرور و کیف و مستی ہے مرے دل میں مری جاں میں ظفرؔ ابرِ کرم سے قلب و جاں سیراب رہتے ہیں سدا رحمت برستی ہے مرے دل میں مری جاں میں
خدا کی عظمتیں ہر سُو عیاں ہیں خدا کی رفعتیں ہر سُو، عیاں ہیں خدا کی نعمتیں ہر سُو عیاں ہیں
خدا کا ہی میں اِک ادنیٰ گدا ہوں خدا کا ہی دیا میں کھا رہا ہوں خدا کا شکر میں کرتا ادا ہوں
مہربانوں، کرم فرماؤں جیسا بلا کی دھوپ میں ننگے سروں پر خدا کا پیار ٹھنڈی چھاؤں جیسا
خدا عشاق کے دل میں نہاں ہے خدا کی یاد میں مصروف ہر دم ظفرؔ کا جسم و جاں، قلبِ تپاں ہے
خدا کا نام میرے تن بدن میں خدا کا نام ہر ذی روح پکارے خدا کا نام گونجے ہر زمن میں