خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا
مجھے سرکارؐ کا درباں بنایا محبت میرے دل میں اپنی ڈالی درِ محبوب پر مجھ کو بٹھایا
معلیٰ
مجھے سرکارؐ کا درباں بنایا محبت میرے دل میں اپنی ڈالی درِ محبوب پر مجھ کو بٹھایا
زمین و آسماں پیدا کیے محبوب کی خاطر ملائک، اِنس و جاں پیدا کئے محبوب کی خاطر ظفرؔ سے نعت خواں پیدا کئے محبوب کی خاطر
خدا ہے شش جہت ہفت آسماں میں خدا موجود بزمِ دوستاں میں خدا موجود قلبِ عاشقاں میں
خدا سارے زمانوں کا خدا ہے خدا کی ہیں تمامی سجدہ گاہیں خدا سب آستانوں کا خدا ہے
مُنور اُس کا دِل، روشن جبیں ہے ظفرؔ جو بے خبر تھا، بے بصر تھا خدا کے فضل سے اب دُور بیں ہے
خدا فرزانوں، دیوانوں کا رب ہے خدا داناؤں، نادانوں کا رب ہے خدا پروانوں، مستانوں کا رب ہے
خلاؤں میں خدا، ہفت آسماں میں خدا بندے کی شہ رگ سے قریں تر خدا روح و بدن میں، قلب و جاں میں
ہَماری لاش پہ ڈُھونڈو نا اُنگلیوں کے نِشاں ہمیں خَبر ہے عزیزو یہ کام کِس کا ہے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
تنہا تنہا اشک بہانا ہم کو اچھا لگتا تھا