میں اوروں کو کیا پرکھوں آئینہ عالم میں
میں اوروں کو کیا پرکھوں آئنۂ عالم میں محتاج شناسائی جب اپنا ہی چہرا ہے
معلیٰ
میں اوروں کو کیا پرکھوں آئنۂ عالم میں محتاج شناسائی جب اپنا ہی چہرا ہے
ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﮩﺎﮞ ﮬﻮﮞ ﻣُﺤﺴﻦ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮬﮯ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﺮﻏﻤﺎﻝ مجھے
چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف […]
زبوں حالیِ اُمت روح فرسا خداوندا مدد فرما خدارا ظفرؔ مانگے دُعا یہ دست بستہ
کہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
خدا کے نام پر ہی انتہا ہے خدا مہر و محبت کی ردا ہے خدا لطف و عنایت کی ندا ہے خدا سب نعمتیں کرتا عطا ہے خدا سب سے بڑا، ربّ العلیٰ ہے خدا سنتا گدا کی التجا ہے خدا مظلوم کی سنتا صدا ہے خدا کے نام پر سجدہ ادا ہے خدا کے […]
رہیں فضلِ خدا کے اُس پہ سائے کبھی روئے کبھی وہ مسکرائے سدا حمدِ خدا کے گیت گائے
خدا فرمانروا حاجت روا ہے خدا ہی قائم و دائم سدا ہے خدا کا نام ہر سُو گونجتا ہے
مجھے درپیش مشکل مرحلہ ہے خدا دِل میں ترے جلوہ نما ہے ظفرؔ تو کس خدا کو ڈھونڈتا ہے