جیسے ویرانے سے ٹکرا کے پلٹتی ہے صدا
دل کے ہر گوشے سے آئی تری آواز مجھے
معلیٰ
دل کے ہر گوشے سے آئی تری آواز مجھے
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے ہوا ہے جب سے دل ناصبور بے قابو کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول […]
یہ تو نے بنا ڈالی ہے تصویر کوئی اور
میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں
سب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
خدا کے دست قدرت میں ہے انسانوں کی پیدائش وہی مخلوق کا خالق، وہی روزی رساں سب کا ظفرؔ عز و شرف بھی دے وہی آرام و آسائش
یہ شغل سخن وقت گزاری کے لیے ہے
یہی مسلک حبیبِ کبریا کا کرے انسان انساں سے محبت ہے یہ منشور انساں کی بقا کا
ہر دم مری زباں پہ ہے تیری ہی گفتگو ہر دم مرے قریب ہے تو میرے چارسُو ہر دم تخیلات میں تو میرے رُوبرو